لاہور (بیوروچیف) شیریں اور فرحت بخش پھل خربوزہ مٹھاس سے بھرپور اور جس میں صحت کے ہزاروں فائدے موجود ہیں۔دنیا میں خربوزے کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں جس کی ہر قسم مفید ہے، طبی ماہرین کی جانب سے گرم موسم کے دوران خربوزہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیوں کہ یہ گرمی کی شدت سے بچاتا ہے اور پانی کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق خربوزہ کی 100 گرام مقدار میں 32 کیلوریز پائی جاتی ہیں جبکہ اس پھل میں پائے جانے والے وٹامنز اور منرلز کے لحاظ سے فیٹ صفر فیصد، کولیسٹرول0 فیصد، سوڈیم 16 ملی گرام، کاربوہائیڈریٹس 8 گرام، فائبر 3 فیصد ، پروٹین 1 فیصد، وٹامن اے 67 فیصد، وٹامن سی 61 فیصد ، وٹامن بی 6 5 فیصد اور میگنیشیم 3 فیصد اور پانی 95.2 گرام پایا جاتا ہے۔خربوزہ خریدتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ پھل اندر سے میٹھا ہے یا پھیکا، اگر خربوزہ پھیکا نکل آئے تو خربوزے کے اوپر چینی ڈال کر کھانا غلط طریقہ ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ پھیکے خربوزے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اسے بلینڈر میں ڈال دیں پھر اس میں 2 سے 3 کجھور، اور دھنیا ڈال دیں اور اچھی طرح بلینڈ کرلیں۔مزیدار میٹھے خربوزے کا جوس آپ انجوائے کرسکتے ہیں۔خربوزہ میں موجود پانی کی وافر مقدار ٹھنڈک کااحساس دیتی اور پیاس کی شدت میں کمی لاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسے سینے کی جلن دور کرنے اور گردوں کی قدرتی طور پر صفائی کے لیے بھی مفید مانا جاتا ہے۔یہ پھل ڈائٹنگ کرنے والوں کے لیے ایک بہترین اسنیک ثابت ہوسکتا ہے۔اس میں موجود رسیلا میٹھا ذائقہ ہائی کیلوریز والے اسنیکس اور ڈیزرٹ کا ایک بہترین متبادل ہے۔خربوزے کا استعمال انسانی جسم کو غذائیت اور پانی کی مقدار فراہم کر کے ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاتا ہے اور انسان شدید گرمی میں بھی خود کو توانا اور تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ چونکہ خربوزے وٹامن اے سے بھرپور ہوتے ہیں تو یہ بالوں کی نشوونما کے لیے بھی فائدہ مند ہوتے ہیں۔وٹامن اے صحت مند بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری جز ہے، وٹامن اے سے سیبم کی پروڈکشن بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں بال صحت مند اور ان میں نمی برقرار رہتی ہے۔خربوزے میں غذائی فائبر کی مناسب مقدار ہوتی ہے، غذائی فائبر قبض کو دور رکھنے کے ساتھ آنتوں کے افعال کو حرکت میں لانے کے لیے ضروری ہے۔قبض کے اکثر شکار رہنے والے افراد کو اس پھل کو ضرور آزمانا چاہیے۔




