درخت لگائیں… مستقبل محفوظ بنائیں

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے شجرکاری کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں موسم تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، گزشتہ بارہ سالوں میں یہاں پر ٹمپریچر 4ڈگری بڑھ گیا’ دیکھا جائے تو فیصل آباد میں ٹمپریچر دیگر علاقوں سے زیادہ بڑھتا دکھائی دیتا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک کا دوسرا بڑا صنعتی شہر ہے اور یہاں پر فیکٹریوں’ ملوں اور کارخانوں کی کثیر تعداد بھی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ارض وطن میں گزشتہ 61سالوں بعد مارچ’ اپریل اور مئی کے گرم ترین مہینے دیکھنے میں آئے، اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ درخت اور پودے لگائے جائیں، اپنے گھر کے ہر خالی حصہ میں’ اپنی گلی میں’ اپنے محلہ میں’ اپنی کالونی میں اور سڑک کنارے جہاں جگہ ملے وہاں درخت اور پودے لگائیں، کوشش کریں درخت اور پودے پھلدار ہوں تاکہ یہ نہ صرف سایہ دیں بلکہ خوراک کا ذریعہ بھی بنیں، بے شک! پھلدار درخت انسانی اور ماحولیاتی بھوک دونوں کا علاج ہیں، اس وقت انسانی زندگی کی بقاء درخت اور پودے لگانے میں ہے، اب اگر ہم نے درختوں کی اہمیت کو نہ سمجھا، تو اگلی نسل کا سوال نہیں، ہم خود اگلے سال مزید خوفناک گرمیوں کا سامنا کریں گے۔ آج جو بیج ہم زمین میں نہیں بوئیں گے، وہ کل ہمارے بچوں کے لیے سانس لینے کی جگہ نہیں چھوڑے گا۔درخت لگانا اب صرف نیکی نہیں، ضرورت بن چکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لائلپوری ہونے کا عملی ثبوت دیں اور ملک کا یہ تیسرا بڑا شہر پاکستان بھر میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سرسبز وشاداب نظر آئے، یہ بات خوش آئند ہے کہ PHA نے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیئے ہیں، پارکوں’ گرین بیلٹس’ چوکوں اور چوراہوں میں خوبصورت اور دیدہ زیب پودے لگائے جا رہے ہیں، انسانی زندگی میں درختوں کی اہمیت وافادیت سے کون واقف نہیں، ہماری سانسوں کی روانی سے لیکر ضروریات تک درخت ہماری زندگی کا حصہ ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص درخت لگانے کیلئے بے تاب نظر آئے، اگر ایسا نہ ہو سکے تو ایک گھرانہ کم ازکم ایک پودا لگائے اور اسے تن آور درخت بنائے تو پھر دیکھیں درجہ حرارت کیسے کم ہوتا ہے اور لائلپور کتنا حسین اور دلکش شہر نظر آتا ہے۔ درخت انسان کو آکسیجن کی فراہمی میں بھی مددگار ہیں’ آٹھ درخت مل کر ایک انسان کی آکسیجن پوری کرتے ہیں اور اگر کوئی انسان ایک درخت بھی نہ لگائے تو اسے سوچنا چاہیے کہ اس نے شجرکاری میں اپنا حصہ کیوں نہیں ڈالا’ موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت سے بچنے کیلئے درخت وپودے لگانا بیحد معاون ومددگار ثابت ہو گا، اگر کسی شخص کے پاس وسائل نہ ہوں تو اسے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے چاہیے کہ سستے پودے خرید کر لگائے، ایک سستا پودا چالیس سے پچاس روپے میں مل جاتا ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ ہر شخص قیمتی پودا ہی لگائے، درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے میں سستے پودے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں، ہمیں جس بات پر زیادہ دھیان دینا چاہیے وہ یہ ہے کہ پودے لگا کر ان کی مناسب دیکھ بھال پر مکمل توجہ دی جائے، پودے کو درخت بننے تک جس نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، ہمیں اس میں سستی’ غفلت ولاپرواہی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، مون سون کی آمد قریب ہے، اگر اس موسم میں پودے لگائے جائیں تو یہ موسم انہیں پروان چڑھانے میں بڑی مدد فراہم کرتا ہے، اس موسم میں حکومتی سطح پر شجرکاری مہم شروع کی جاتی ہے جبکہ ہمیں انفرادی سطح پر بھی پودے لگا کر شجرکاری میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، یہ بات بڑی تعجب انگیز ہے کہ ہر آدمی درخت کی چھائوں میں بیٹھنا چاہتا ہے مگر ہر آدمی درخت نہیں لگا رہا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والے درجہ حرارت کے باعث ہمیں اپنا طرز عمل بدلنا چاہیے اور ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے حصے کے پودے لگائے،آپ پودوں کی پرورش کا مشاہدہ کریں تو ایک بیج سے پودا نکلتا ہے اور پھر ایک درخت بن جاتا ہے، یہ ہمارے لئے واضح اشارہ ہے کہ جو ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں وہی معاشرے میں مضبوط اور بہترین مقام پاتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آج سے ہی درخت لگانے کی تیاری شروع کر دیں تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پایا جا سکے’ درختوں میں نیم کا درخت 55ڈگری تک گرمی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے، ایک بارہ فٹ کا درخت تین ائیرکنڈیشنزکے برابر ٹھنڈک پیدا کرتا ہے، نیم کا درخت رات کو بھی آکسیجن خارج کرتا ہے، اس کے علاوہ بکائن’ جامن’ شیشم’ کچنار’ پیپل’ امرود وغیرہ کے درخت بھی ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں اور ماحول دوست ہیں، لہٰذا ہمیں ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔ بلاشبہ! درختوں اور پودوں کی اہمیت کا ہر شخص معترف ہے، یہ انسان کے بہترین دوست ہیں، ان کی ایک خاص مہک ہوتی ہے جو ہماری روح تک سرائیت کر جاتی ہے، درخت ہمیں آکسیجن کے ساتھ ساتھ سایہ بھی فراہم کرتے ہیں اور جب بھی ہم تپتی دھوپ سے پریشان ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے کسی درخت کا سایہ تلاش کرتے ہیں تاکہ ہمیں سکون میسر ہو سکے، یہ پرندوں کا مسکن ہیں، موجودہ دور کا المیہ ہے کہ گنجان آبادی والے علاقوں میں ضرورت کے مطابق درخت نہیں لگائے جا سکے، سایہ دار درختوں کی عدم موجودگی میں درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے’ اس صورتحال میں ہم سب کو شجرکاری کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اپنے اردگرد کے ماحول کو خوبصورت اور دلکش بنانے کیلئے ہمیں ذاتی طور پر پودے لگانے چاہیے، موسمیاتی تبدیلیوں اور دن رات بڑھتی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ ہم سب شجرکاری پر مکمل توجہ دیں اور اس ضمن میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں، بلاشبہ! شجرکاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور انشاء اﷲ میرے ملک کا ہر فرد اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں