رانا آفتاب احمد نے متنازع بل ”عادی مجرم”کا پنجاب اسمبلی میں پوسٹ مارٹم کردیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایم پی اے رانا آفتاب احمد خان نے متنازع بل ”پنجاب کنٹرول آف ہیبچول آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر ” (عادی مجرم) کا پنجاب اسمبلی میں پوسٹ مارٹم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی کو دی گئی درخواست پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش کرتے ہوئے فیصل آباد کے حلقہ پی پی108 سے ایم پی اے رانا آفتاب احمد خان نے کہا کہ اس بل سے انتظامیہ کے اختیارات میں نمایاں اضافہ اور عوامی نگرانی محدود ہو جائیگی، اگر اس بل کو تفصیلی غوروخوض کے بغیر منظور کر لیا گیا تو اس سے ایسا قانونی ڈھانچہ وجود میں آئیگا جو آئینی چیلنج کا سامنا کر سکتا ہے، بل میں قابل سزا جرائم کے علاوہ اس میں غیر واضح اصطلاحات بھی شامل کی گئیں۔ اس بل میں سب سے زیادہ تشویشناک شق (1)(W) ہے جس کے تحت ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سرگرمی کو بغیر کسی قانونی منظوری کے ”ضد اجتماعی رویہ” قرار دے سکتی ہے انتظامیہ کو اس طرح کا کھلا اختیار تفویض کرنا آئینی تقاضے کی خلاف ورزی ہے شق7 کے تحت ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کسی بھی انٹیلی جنس رپورٹ یا شکایت کی بنیاد پر نئے سرے سے طرز عمل کی نئی اقسام کو ”ضد اجتماعی رویہ” قرار دے سکتی ہے۔ اس سے انتظامیہ کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ بغیر کسی قانونی بحث یا پارلیمانی منظوری کے نئی پابندیاں عائد کر دے۔ انتظامیہ کو حد سے زیادہ اختیارات کی تفویض سے صوبائی اسمبلی کا بطور قانون ساز ادارہ آئینی کردار کمزور ہو جائیگا۔ انتظامی افسران کو شدید نوعیت کی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار مل جائیگا جن میں ضمانتوں (سکیورٹی بانڈز) کی شرط عائد کرنا، پی پی آئی ایل میں شمولیت کی سفارش کرنا’ سی پی آئی سی اور پاسپورٹس بلاک کرنا’ ڈیجیٹل آلات ضبط کرنا’ بینک کھاتوں کو منجمد کرنا’ منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنا’ الیکٹرانک نگرانی’ پائوں میں بندھنے والی نگرانی کی ڈائز لگانا شامل ہے۔ یہ غیر معمولی اقدامات کسی بھی جرم میں سزا ہونے سے پہلے شروع کئے جا سکتے ہیں۔ یہ اختیارات روایتی طور پر آزاد عدالتوں کے ہوتے ہیں نہ کہ انتظامی کمیٹیوں کے اس بل سے کسی شہری کو بغیر کسی سزا کے نگری’ پابندیوں’ اثاثوں کی منجمدی اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دفعہ9 کسی شخص کو صرف درج ذیل بنیادوں پر عادی مجرم قرار دینے کی اجازت دیتی ہے، ایف آئی آر کا اندراج یا بار بار گرفتاری جرم ثابت کرنے کے مترادف نہیں، یہ شق موثر انداز میں سزا کو سزا سے پہلے نافذ کرنے کی اجازت دیتی ہے، دفعہ7 کے آزادی اظہار اور رازداری پر سنگین اثرات مرتب ہونگے، پارلیمانی ترمیم کی بجائے جرائم کو ایگزیکٹو نوٹیفکیشن کے ذریعے بڑھانا قانون سازی کے اختیار کو غیر ضروری تفویض کے مترادف ہے۔ دفعہ15 کے تحت سرکاری افسران کو استثنیٰ سے طاقت کے غلط استعمال کے خلاف موثر احتساب ممکن نہیں ہو گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بل پر موجودہ شکل میں مزید قانونی غوروخوض ملتوی کیا جائے، بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے پاس تفصیلی آئینی جانچ پڑتال کیلئے بھیجا جائے۔ آئینی ماہرین اور لاء ڈیپارٹمنٹ سے آزادانہ قانونی رائے لی جائے، عدالتی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے۔ تعریفات کو محدود اور واضح کیا جائے۔ انتظامی اختیارات کے من مانے استعمال کے خلاف موثر حفاظتی تدابیر شامل کی جائیں، صوبائی اسمبلی کا آئینی فرض صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ ایسے قوانین سازی کو یقینی بنانا بھی ہے جو آئینی جانچ پر پورا اترتے ہیں اور عوامی آزادیوں کا تحفظ کرتے ہوں۔ رانا آفتاب احمد کے بھرپور موقف کے بعد حکومت نے متنازع بل کی منظوری کو اگست تک موخر کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں