اسلام آباد(بیوروچیف) سپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ون ونڈو سہولت کاری کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع تک رسائی آسان بنائی جا رہی ہے ۔ سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان بنانے کیلئے ایس آئی ایف سی نے ڈیجیٹل ٹکٹنگ ہب بھی متعارف کرا دیا ۔ سرمایہ کار ایس آئی ایف سی کی ویب سائٹ پر دستیاب ٹکٹنگ ہب کے ذریعے درخواست درج کرا کے سرمایہ کاری سے متعلق سہولت کاری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ اداروں اور شعبوں تک رسائی آسان بنائی جا رہی ہے ، جبکہ سرمایہ کاری کے عمل کو شفاف، مثر اور کاروبار دوست بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے ۔خواتین کاروباری افراد کیلئے بھی آسان سہولیات، سرمایہ کاری و کاروباری مواقع اور معاون ماحول کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ انہیں معاشی سرگرمیوں میں مثر کردار ادا کرنے کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔دریں ثناء ۔لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم کی شرائط میں اہم ترمیم کی ہے، جس کے تحت غربت سکور سے محروم 31 ہزار 505 درخواست گزاروں کو بھی اہل قرار دینے کیلئے نیا طریقہ کار تیار کرلیا گیا ہے۔ غربت سکور دستیاب نہ ہونے کے باعث مستحق بے زمین افراد کے سکیم سے محروم رہ جانے کا خدشہ تھا۔دستاویزات کے مطابق سکیم کیلئے مجموعی طور پر 2 لاکھ 71 ہزار 15 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 2 لاکھ 10 ہزار 777 درخواست گزاروں کا ریکارڈ پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری (PSER) جبکہ مزید 28 ہزار 740 افراد کا ریکارڈ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER) میں دستیاب پایا گیا۔ یوں مجموعی طور پر 2 لاکھ 39 ہزار 510 درخواست گزاروں کا غربت سکور دستیاب ہے، جبکہ 31 ہزار 505 درخواست گزار ایسے ہیں جن کا سکور کسی بھی رجسٹری میں موجود نہیں۔بورڈ آف ریونیو نے باقی درخواست گزاروں کیلئے ذاتی معاشی جائزے کا فارم تیار کرلیا ہے۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت PSER یا NSER میں 32 یا اس سے کم غربت سکور رکھنے والے درخواست گزار اہل ہوں گے، جبکہ فیلڈ سروے میں 23 یا اس سے کم نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی اہل قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے ذاتی معاشی جائزے کے عمل کی شفافیت اور نگرانی پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے سروے کرنے والی اتھارٹی اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا طریقہ واضح کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں فیلڈ ٹیموں نے درخواست گزاروں کا سروے مکمل کیا اور معلومات کی ضلعی سطح پر جانچ پڑتال کی گئی۔بورڈ آف ریونیو کے مطابق ذاتی معاشی جائزے کا فارم پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ بورڈ آف ریونیو کی وضاحت کے بعد محکمہ خزانہ نے مجوزہ ترمیم کی توثیق بھی کردی ہے۔




