سفارتی کامیابیوں کے باوجود برآمدات کا حجم30سے32ارب ڈالر تک محدود

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں زرعی برآمد کنندگان اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی، جس کا مقصد برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا اور پاکستان کی زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے عملی حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔ یہ اجلاس وزیرِاعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر منعقد کیا گیا تاکہ بالخصوص زرعی شعبے میں برآمدات میں کمی کی وجوہات کا تفصیلی تجزیہ کیا جا سکے۔ اجلاس کی قیادت وائس پریزیڈنٹ ایف پی سی سی آئی جناب طارق جدون نے کی جبکہ قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی جناب ثاقب ریاض نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا۔ ملک بھر سے زراعت، لائیو اسٹاک، گوشت، چاول، پھلوں اور سبزیوں سے وابستہ برآمد کنندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے اقتصادی اور سیاسی سفارت کاری کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں بھارت کے ساتھ علاقائی سطح پر پیش رفت بھی شامل ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے تاہم انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان سفارتی کامیابیوں کے باوجود پاکستان کی برآمدات کا حجم اب بھی تقریباً 30 سے 32 ارب امریکی ڈالر تک محدود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں