سکولز و کالجز میں طلبہ کو آن لائن آئس کی سپلائی فراہم کرنے کا انکشاف

جڑانوالہ(نامہ نگار) آئس کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان نوجوان نسل کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے لگا،15سال سے 30سال کی عمر تک کے معتدد نوجوان آئس کے عادی بن چکے ہیں۔سکولز و کالجز میں زیر تعلیم ائس کے عادی طلبہ کو ان لائن آئس کی سپلائی فراہم کئے جانے کا بھی انکشاف،پولیس آئس سپلائی کرنیوالے سپلائرز کیخلاف کارروائی کرنے کی بجائے سب اچھا کی رپورٹ پیش کرنے لگی،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعلی پنجاب،آئی جی پنجاب،ار پی او،سی پی او فیصل آباد اور ایس پی ٹائون جڑانوالہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق پولیس کی مبینہ چشم پوشی کے باعث جڑانوالہ شہر میں آئس کے استعمال کے رجحا ن میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اندرون شہر کی آبادیوں میں مقیم سکولز کالجز میں زیر تعلیم معتدد نوجوان آئس کے استعمال کے عادی بن چکے ہیں ذرائع کے مطابق 15سال سے 30سال تک کی عمر کے نوجوان آئس کی لعنت میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اپنا نشہ پورا کرنے کیلئے مبینہ طور پر چوری راہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہو رہے ہیں جڑانوالہ اندرون شہر کی گلی محلوں چوک چوراہوں میں آئس کے عادی نوجوان بلا خوف و خطر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پولیس کی مبینہ چشم پوشی کے باعث آئس کے سپلائرز مبینہ طور پر اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئس کی سپلائی کیلئے ان لائن سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے آئس کے استعمال کے عادی افراد اپنے گھروں کی بربادی کیساتھ ساتھ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بن رہے ہیں اور اپنے جسم کی رگوں میں آئس کا زہر اتار کر اپنی زندگیوں کو دا پر لگا چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں