سیلاب متاثرین کی امداد… ہم سب کی ذمہ داری

شدید بارشوں اور بھارت کی آبی جارحیت کے نتیجہ میں اس وقت ملک بدترین سیلاب سے دوچار ہے، لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس صورتحال سے متاثر دکھائی دیتی ہے، ان کی جمع پونجی’ فصلیں’ مکانات’ مویشی اور دیگر قیمتی مال واسباب پانی میں بہہ گئے، صوبہ پنجاب میں متاثرین سیلاب کی تعداد 20لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ صوبے میں درجنوں افراد موت کی وادی میں پہنچ چکے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ جس زمین پر رہتے ہیں وہاں سے سیلابی پانی اترا نہیں، آسمان سے اور برس گیا، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں اور ان حالات میں بے گھر ہونے والے لوگوں پر کیا بیتی ہو گی، یہ سوچ انسان لرز کر رہ جاتا ہے، متاثرین سیلاب سخت مشکلات سے دوچار ہیں، قیامت صغریٰ کا عالم متاثرہ علاقوں میں نظر آتا ہے، حکومت اور امدادی ادارے اپنے طور پر اس آفت کا مقابلہ کرنے میں مصروف عمل ہیں، بارشوں کے نئے اسپیل نے بھی تباہی مچا دی اور اربن فنڈنگ کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، فیصل آباد کے قریب دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے دریا کے دونوں اطراف سینکڑوں ایکڑ اراضی اور فصلیں متاثر ہوئی ہیں، ماڑی پتن میں پانی کی سطح بلند ہونے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے، متاثرین سیلاب کی امداد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ان حالات میں حکومت اور امدادی اداروں کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کے دکھ درد کو اپنا غم سمجھتے ہوئے ان کی مدد کیلئے کمربستہ ہو جانا چاہیے، ہر فرد کو دیکھنا چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین کی کیسے اور کس طرح مدد کر رہا ہے، امیر اور غریب دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، امیر لوگ اپنی مالی حیثیت کے پیش نظر بے حال لوگوں کی بھرپور مدد کریں اور غریب بھی اس معاملہ میں پیچھے نہ رہیں اور شدید مشکلات سے دوچار لوگوں کی مدد کیلئے آگے بڑھیں، ہر فرد کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، پانی کی ایک صاف بوتل بھی اگر کوئی غریب شخص دینے کی سکت رکھتا ہو تو اسے یہ نیک کام ضرور کرنا چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑی نیکی ہے اور دنیا وآخرت میں فلاح کا ذریعہ ہے، اگر کوئی شخص اتنا بے حال ہو تو کہ صاف پانی کی ایک بوتل بھی نہ دے سکے تو اسے اس بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ اپنے بھائیوں کی مدد نہ کر سکا، اسے چاہیے کہ وہ اپنے پریشان حال بھائیوں کے لیے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرے، سیلاب متاثرین کی پریشانیاں دور کرنا بہت بڑی خوش بختی ہو گی، بپھرے دریائوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں، ان کے کنارے زیرآب بستیاں اور فصلیں برباد ہو گئیں، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، کئی شہروں کو بچانے کیلئے بندوں میں شگاف ڈالے گئے، دربدر ہونیوالے متاثرین عارضی کیمپوں میں خوراک ملنے کے منتظر ہیں، کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جانیں بچانے پر مجبور ہو گئے، کچھ لوگ چھتوں پر پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ امدادی ٹیموں نے بہت بڑی تعداد میں متاثرین کو عارضی کیمپوں میں منتقل کر دیا ہے، پاک فوج بھی امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہے اور لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور بحالی کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، بلاشبہ! اس ناگہانی آفت میں سب سے پہلا کام متاثرین کے ریلیف اور ان کی حفاظتی مقامات پر منتقلی ہی ہونا چاہیے۔ جس میں اس وقت مسلسل برستی بارشوں کے سبب مشکلات کا سامنا ہے، اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں پورے خطے کو شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہے، اگر آج ہمارے پاس بڑے’ درمیانے اور چھوٹے ڈیم وافر ہوتے تو پانی کا رُخ ان آبی ذخائر کی طرف موڑا جا سکتا تھا اور سیلاب نے جو خوفناک تباہی مچائی ہے، اس سے بچا جا سکتا تھا، سیلاب قدرتی آفات میں سنگین تر ہے مگر انسانی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی سیلاب کی تباہ کاریاں بڑھا دیتی ہیں، آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں’ دریائوں کے کنارے تجاوزات اور منصوبہ بندی کے نقائص سے بھرپور نام نہاد ترقیاتی منصوبے اس صورتحال میں بڑی تباہی کا سبب بنتے ہیں، ستم ظریفی دیکھئے کہ چھوٹے’ بڑے ڈیموں کی تعمیر تو درکنار ہم ابھی تک نکاسی آب کا نظام ہی حسب ضرورت تعمیر نہیں کر سکے، یہی وجہ ہے کہ سیلابی صورتحال اور شدید بارشوں میں ہمیں شدید مشکلات گھیر لیتی ہیں، سیلاب اور شدید بارشوں سے جانی ومالی نقصانات کے علاوہ خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے اور زرعی شعبے کا مقررہ ہدف حاصل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، پنجاب جو کہ زرعی پیداوار میں سب سے زیادہ حصہ دار ہے، اس کے وسطی اضلاع سیلاب کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں، ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر کچھ ایسے اقدامات کئے جائیں جو سیلابوں کی نذر ہونے والی فصلوں کا معاشی بوجھ کاشت کاروں سے کم کرنے میں مدد کریں، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس آفت کے فوری اثرات کے بعد ایک طویل المدتی بحران ہمارے سامنے ہے، لاکھوں افراد کے گھروں کی تعمیر نو’ زرعی زمینوں کی بحالی’ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی اور متاثرین کی مکمل بحالی ایک چیلنج ہے لیکن اگر حکومت اور میرے پیارے ملک کا ہر فرد سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی جلد ممکن بنانے میں بڑی مدد ملے گی، ہمیں تن’ من’ دھن کی بازی لگا کر اپنے بے یارومددگار بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے، رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ کسی شخص کا اپنی تندرستی کی حالت میں ایک درہم اﷲ کی راہ میں خرچ کرنا اپنے مرنے کے وقت اﷲ کے راستہ میں ایک سو درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے، سیلاب متاثرین کو اس وقت اشیائے خوردونوش’ کپڑوں’ بستروں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی اشد ضرورت ہے لہٰذا ہم سب کا فرض ہے کہ ان کے کھانے پینے’ ادویات’ تن ڈھانپنے کیلئے کپڑوں اور سر چھپانے کیلئے جگہ فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، بے شک! اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کرنا بہت بڑی نیکی ہے اور ہمیں اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ مصیبت زدہ لوگوں کی دل جوئی ہو سکے اور اﷲ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں