ملک میں سبز انقلاب لانے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر ابھی تک اس معاملے میں وہ پیشرفت نہیں ہو سکی جو وقت کا اہم تقاضا ہے، اس حقیقت سے ہر ذی شعور آگاہ ہے کہ کسانوں اور کاشتکاروں کو بہترین سہولتیں فراہم کر کے ہی سبز انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے مگر اسے کیا کہیئے کہ ابھی تک کسی حکومت نے اس معاملے میں بھرپور عملی اقدامات نہیں اٹھائے، وطن عزیز میں حالیہ سیلاب نے دیگر تباہیاں مچانے کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی معاشی ترقی کیلئے بیحد اہم ہے لہٰذا سیلاب کی تباہ کاریوں کے شکار زمینداروں وکاشتکاروں کو درپیش مسائل ومشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا اشد ضروری ہے، حالیہ سیلاب کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے اور یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید متاثر کر رہی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا بیحد ضروری ہے اور زمینداروں وکاشتکاروں کی مشکلات کا فوری ازالہ ہونا چاہیے، ملک میں سبز انقلاب کے لیے زمینوں کو زرخیز بنانا بھی اشد ضروری ہے مگر اس جانب ہماری توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، سیلاب سے فصلوں کی تباہی کے علاوہ یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری زرخیز زمینوں پر دھڑا دھڑ ہائوسنگ سکیمیں بن رہی ہیں اور لاکھوں ایکڑ رقبے پر فصلیں کاشت ہونے کی بجائے وہاں پر اب گھر بن رہے ہیں، اس صورتحال میں سبز انقلاب لانا تو دور کی بات’ ہماری زراعت تباہی سے دوچار ہو رہی ہے لہٰذا سیلابی صورتحال اور رہائشی اسکیموں سے سونا اگلتی زمینوں کو بچانے پر مکمل توجہ مرکوز کی جائے، اگر ہم ملک میں سبز انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہمیں علاقائی مفادات کو پس پشت ڈال کر پوری قوم کے اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا، کالاباغ ڈیم سے ملک میں زرعی ترقی کی نئی راہیں کھلنا یقینی ہے مگر ہم نے کالا باغ ڈیم اور دیگر آبی ذخائر بنانے کے مواقع کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ جب شدید بارشیں ہوتی ہیں تو سیلاب آ جاتا ہے اور بارشیں نہیں ہوتی تو خشک سالی کاشتکاروں اور کسانوں کے لیے مصیبت بن جاتی ہے، شدید بارشوں کے بعد جب سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو بھارت آبی جارحیت پر اتر آتا ہے اور اس نے اس بار بھی پانی چھوڑ کر ہمارے کئی اضلاع ڈبو دیئے، جنوبی پنجاب اور سندھ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال نے درد دل رکھنے والے ہر شخص کو پریشان کر دیا، سیلاب کے باعث کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچا اور جہاں سفید پھولوں کی لہلہاتی کھیتیاں تھیں وہاں اب کیچڑ یا پانی کھڑا ہے، بھارتی آبی جارحیت نے صرف فصلیں تباہ نہیں کیں بلکہ ہمارے کسانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے لہٰذا ہمیں اپنے کسانوں کی فوری مدد پر مکمل توجہ مرکوز کر کے انہیں آباد کرنا چاہیے، ڈیری اینڈ کیٹل فارمز ایسوسی ایشن پاکستان کے ایڈوائزر طاہر رزاق کا سیلابی صورتحال سے متعلق کہنا ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو متاثرہ علاقوں کے باسیوں کو کم ازکم ایک سال اذیت میں مبتلا رکھتا ہے، یہ اذیت معاشی’ معاشرتی اور ذہنی تمام اطراف سے ہوتی ہے، آپ یہ سوچیں آپ کی گاڑی ایک کروڑ روپے کی ہے، اس کو 20دن کے لئے پانی کے اندر ڈبو دیا جائے تو اس کے الیکٹرک الیکٹریکل’ مکینیکل بیرنگز اور باڈی کے پلے کیا بچے گا، کسانوں اور کاشتکاروں کے ساتھ بھی سیلاب یہی کچھ کرتا ہے، حالیہ سیلاب سے جو علاقے متاثر ہوئے وہاں گنے کی فصل برباد ہو چکی ہے، اس کو نیچے سے دو فٹ جالا لگ چکا ہے، متاثرہ علاقوں میں ہر جگہ ہر پودے کو دو فٹ تک نئی نکلنے والی جڑ نے ہر جوڑ سے گھیر لیا ہے، اب اس کو شوگر ملز مالکان اپنی پسند کے ریٹ پر خریدیں گے، ہر ٹرالی پر کئی من وزن کی کاٹ لگے گی، جن علاقوں میں جہاں سیلاب آیا ہے وہاں چاول کی فصل متاثر ہوئی ہے، اس صورتحال سے کسان اور کاشتکارپریشان ہیں جبکہ عام لوگوں کو بھی اس کے اثرات چاول کا ریٹ بڑھنے کی صورت میں برداشت کرنا پڑیںگے، مارکیٹ میں جب آپ چاول خریدنے جائیں گے تو ان کے ریٹس پر کتنا فرق پڑ چکا ہے اور کتنا فرق مزید پڑے گا، یہ آپ کو خریداری کے وقت ہی پتہ چلے گا، اس کا بقایاجات، اس کے پودے جن کو پرالی بولا جاتا ہے وہ جانوروں والی منڈیوں میں انتہائی ضروری ہیں، ان پر جانور کھڑے کر کے لمبے سفر پر ٹرکوں پر لوڈ کر کے لیجائے جاتے ہیں، سردیوں میں پرالی بکریوں اور دیگر جانوروں کو بچانے کیلئے بڑے فارمز میں فرش پر بچھائی جاتی ہے اور اس کو بار بار بدلنا پڑتا ہے، دیہی علاقوں میں جانوروں کو سردی سے بچانے کیلئے ان کے اردگرد لکڑیوں کے درمیان پرالی باندھ کر عارضی دیواریں بنالی جاتی ہیں، یہ پرالی کینو کی پیکنگ میں بھی استعمال ہوتی ہے اور جن اشیاء کے گڈز ٹرانسپورٹ میں ٹوٹنے کا خدشہ ہو، ان کو محفوظ رکھنے کا بھی یہ سب سے سستا ذریعہ ہے، اب آپ سوچیں، چینی کم ہو گی تو امپورٹر اپنی مرضی کے ریٹس وصول کرے گا، فصل برباد ہونے سے چاول مہنگا ہو گیا، کئی گھرانوں میں ہفتہ کے دوران صرف ایک بار چاول پکتا ہے مگر بعض گھروں میں لوگ اسے روزانہ پکاتے ہیں، لہٰذا فصلوں کی بربادی سے زمیندار اور کاشتکار صرف اکیلے برباد نہیں ہونگے بلکہ اس سے تمام لوگوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہونگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، سیلابی صورتحال سے بچائو کیلئے ڈیموں کی تعمیر بھی بیحد ضروری ہے، یقینی طور پر اس سے ملک میں سبز انقلاب کی راہیں ہموار کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔




