ہمارا ملک خصوصا پنجاب خیبر اور سندھ کم و بیش ایک ماہ سے شدید بارشوں اور بدترین سیلاب کی زد میں ہے سینکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں مال مویشی اور درجنوں انسان پانی میں بہہ چکے ہیں گھروں میں پانی داخل ہوا اور سب کچھ بہا کر لے گیا سیلاب بارشوں کی شدت سے آیا مگر دریائوں میں بڑھتے پانی کے ساتھ انڈیا نے بھی دل کھول کر ابی جارحیت دکھائی جب انڈیا پانی ہمارے دریائوں میں لاکھوں کیو سک چھوڑتا ہے تو پانی ہماری بستیوں گھروں اور دیہاتوں کو بہاتا اور تباہی مچاتا ہوا گزرتا ہے دریائے چناب ستلج اور راوی میں انڈیا نے پانی چھوڑا اور ہمارے شہر اور دیہات دیہات پانی میں ڈوب گئے سیلاب سیالکوٹ ڈسکہ گجرانوالہ لاہور جھنگ ملتان اور دیگر شہروں میں تباہی مچاتا گزر گیا اور ملک کا اربوں ڈالرز کا نقصان کر گیا اس نقصان کو کون پورا کرے گا جو جانیں گئی ہیں مال مویشی پانی میں بہہ گئے وہ واپس نہیں ائیں گے جن کے مکانات گرے ہیں ان کی تعمیر کیسے ممکن ہوگی جن کی زمینیں فصلیں خاص کر کپاس اور مونجی کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں ان کے ساتھ حکومت کیا تعاون کرے گی جن کے مال مویشی سیلاب میں بہہ گے کیا حکومت کے پاس ان کے لیے کوئی پلاننگ ہے میرا خیال ہے کوئی پلاننگ یا منصوبہ بندی نہیں ہوگی کسی متاثرہ خاندان کے ساتھ تعاون بھی کیا گیا تو شاید وہ تعا ون اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہوگا۔ ملک میں سیلاب ہر سال آتا ہے مگر اس سال شدید بارشوں اور انڈیا کے پانی چھوڑنے سے تباہ کاریاں زیادہ ہوئی ہیں مگر دریاں میں پانی ہر سال ان دنوں بڑھتا ہے اس پانی کو محفوظ کرنے اور اس کو کارآمد بنانے کی کوئی پلاننگ نہیں کی جاتی اس پانی سے بجلی اور ڈیم بنانے اور نقصان سے بچانے لوگوں کی زمینیں اور جانیں بچانے کے لیے کوئی ٹھوس پلاننگ نہیں کی جاتی اگر حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی نہیں کر سکتی تو حکومت میں رہنا ان کے لیے عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی اور نا انصافی ہے۔ ملک میں کوئی آفت آ جائے سیلاب یا زلزلہ تو حکومت اور انتظامی ادارے ٹھیک طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے نہیں دکھائی دیتے حالانکہ یہ ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے کہ فوری متاثرین کو ریلیف دے ان کی جان و مال کی حفاظت اور پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے ان کو کھانا پہنچانے ادویات اور مریضوں کو ہسپتال پہنچائے مگر جو انتظامات ہوتے ہیں دکھانے کی حد تک عملا سب متاثرین احتجاج کرتے اور اپنی قسمت کو روتے دکھائی دیتے ہیں اپنی مدد اپ کے تحت سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے یہ سب ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر بنا جس کے حکمران مسلمان اور کلمہ گو ہیں یہاں سب کچھ موجود ہے نعمتوں کے انبار ہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے بہترین پولیس اور شاندار آرمی فورسز ہے مگر سیاست میں ایسے لوگ ہیں جو صرف اپنی تجوریاں بھرنے میں لگے رہتے ہیں اپنے پروٹوکول اور اپنی ضروریات اور مراعات میں اضافہ کی پلاننگ کرتے رہتے ہیں ان کے پیش نظر صرف اپنی ملوں فیکٹریوں کارخانوں اور فارم ہائوسز میں اضافہ ہوتا ہے اور نصف صدی سے یہی کچھ ہو رہا ہے عوام کے لیے مہنگائی اور بے روزگاری بد امنی سیلاب اور افات کے سوا کچھ نہیں بچا بجلی کے بلوں نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں ہمارے دینی اور سیاسی جماعتیں بس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سوا کچھ نہیں کرتی ان کے نزدیک ملک اور قوم کی بہتری کی کوئی پلاننگ نہیں ہے کرپشن ہے جو کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جب ملک میں سیلاب یا آفت آتی ہے تو دینی جماعتیں ہی دوڑ کر سب سے پہلے متاثرین تک ریلیف کی سرگرمیوں اور کھانے اور ادویات لے کر پہنچتی ہیں آرمی کے جوان بھی بہترین امدادی سرگرمیوں میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جماعت اسلامی کی الخدمت فائونڈیشن بھی سر فہرست ہوتی ہے آج بھی ہر جگہ اس کے جوان سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں میں نمایاں نظر آ رہے ہیں جو ریلیف کے ساتھ خیمہ بستیوں جس میں کھانا اور ادویات بھی دے رہے ہیں یہ سب عوام کے تعاون کے ساتھ ہو رہا ہے اس سیلاب کی تباہ کاریوں میں صاحب حیثیت اور مخیر حضرات کو آگے بڑھنا ہوگا متاثرین کو اپنے تعاون سے دوبارہ پائوں پر کھڑا کرنا ان کی ذمہ داری ہے انفاق فی سبیل اللہ کا وقت ہے دل کھول کر اللہ کی رضا کے ان کے ساتھ تعاون کریں اور آفات سے بچنے کے لیے اللہ سے رجوع کریں توبہ استغفار کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں یہ سیلاب اور آفات اللہ کی ناراضگی سے آتے ہیں اللہ ہمیں ان سے محفوظ رکھے۔




