شہریوں پر پراپرٹی ،موٹر اور پروفیشنل ٹیکس کی مد میں اضافی مالی بوجھپڑنے کا امکان

اسلام آباد (بیوروچیف) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شہریوں پر پراپرٹی، موٹر اور پروفیشنل ٹیکس کی مد میں اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جبکہ محکمہ ایکسائز کو محصولات میں نمایاں اضافے کے لیے مختلف تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز نے اگلے مالی سال کے لیے 135 ارب روپے محصولات کی وصولی کے ہدف کے حصول کی خاطر اپنی تجاویز ریسورس موبلائزیشن کمیٹی کو بھجوا دی ہیں۔ محکمہ کو موجودہ ہدف کے مقابلے میں تقریبا 90 فیصد زیادہ وصولیاں یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں دی گئی 75فیصد رعایت ختم کرکے مکمل وصولی کی تجویز زیر غور ہے۔ گزشتہ سال پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا نظام اینول رینٹل ویلیو سے کیپٹل ویلیو کی بنیاد پر منتقل کیا گیا تھا، جس کے بعد رواں مالی سال میں 25فیصد اضافی وصولیاں حاصل ہوئیں۔حکومتی منصو بے کے مطابق پراپرٹی ٹیکس میں مجموعی طور پر 100 فیصد اضافے کو چار سال میں مرحلہ وار نافذ کیا جانا تھا، جس کے تحت ہر سال 25فیصد اضافہ ہونا ہے۔ ذرائع کے مطابق 75فیصد رعایت کے خاتمے سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں تقریبا 60ارب روپے کی وصولی ممکن ہو سکتی ہے۔مزید برآں موٹر گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 50فیصد اور رجسٹریشن فیس میں 10فیصد اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اسی طرح پروفیشنل ٹیکس کی کم از کم شرح 200روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں