صفر کے توہمات اور غلط رسومات: ایک تفصیلی اسلامی تجزیہ

صفر کا مہینہ جب قریب آتا ہے تو جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ایک عجیب بے چینی پھیل جاتی ہے۔ لوگ اس مہینے کو “منحوس”، “آفتوں کا زمانہ” اور “برکت سے خالی” سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں شادی بیاہ جیسے مبارک کاموں سے گریز کیا جاتا ہے، نئے کاروبار یا سفر ملتوی کیے جاتے ہیں، اور یہاں تک کہ صفر کے آخری چار بدھ (چہار شنبہ) کو انتہائی منحوس سمجھ کر خصوصی “حفاظتی” رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ لوگ تعویذ گنڈے پہنتے ہیں، مخصوص دعائیں پڑھتے ہیں، یہاں تک کہ بعض علاقوں میں صفر میں اموات یا بیماریوں کے بڑھ جانے کا غلط عقیدہ پایا جاتا ہے۔ یہ تمام توہمات جاہلیت کے قدیم عقائد اور مقامی ثقافتی روایات کی پیداوار ہیں جن کا قرآن و سنت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ اللہ کے رسول ۖ نے ان تمام غلط عقائد کی واضح تردید فرمائی ہے۔ آپ ۖ کا ارشاد گرامی ہے: *”نہ تو کسی چیز کی ذاتی طور پر بیماری لگنے کا اثر ہے (عدوی)، نہ بدفالی (طیارہ) ہے، نہ ہامہ (الو) سے نحوست ہے، اور نہ ہی صفر (کے مہینے) سے کوئی نحوست وابستہ ہے۔”* (صحیح بخاری: 5757، صحیح مسلم: 2220)۔ اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم ۖ نے زمانہ جاہلیت کے چار باطل تصورات کو یکسر مسترد کر دیا، جن میں صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا بھی شامل ہے۔ مزید برآں آپ ۖ نے بدفالی (کسی چیز کو منحوس سمجھنا) کو شرک قرار دیتے ہوئے فرمایا: *”بدفالی (طیارہ) شرک ہے، بدفالی شرک ہے، بدفالی شرک ہے۔”* (سنن ابی داد: 3910، صححہ الالبانی)۔ قرآن مجید اس بارے میں بنیادی اصول بیان کرتا ہے: *”بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں…”* (التوبہ: 36)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تمام مہینے اللہ کی تخلیق اور اس کے نظام کا حصہ ہیں، جن میں سے چار (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب) کو خصوصی احترام حاصل ہے، لیکن کسی بھی مہینے کو ذاتی طور پر منحوس قرار دینا قرآن و سنت کے سراسر خلاف ہے۔ تاریخ اسلام صفر کے مہینے میں پیش آنے والے متعدد اہم اور مثبت واقعات کی گواہ ہے۔ رسول اللہ ۖ اپنی آخری علالت میں صفر ہی کے مہینے میں بیمار ہوئے جو اللہ کی تقدیر تھی، جبکہ اسی مہینے میں غزوہ خیبر جیسی عظیم فتح (7ہجری) بھی حاصل ہوئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عظیم الشان شادی بھی ماہ صفر (2ہجری) میں ہوئی۔ یہ تاریخی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ خیر و شر، برکت و مصیبت کا تعلق مہینوں سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم اور انسان کے اعمال سے ہے۔ صفر میں کی جانے والی مخصوص رسومات جیسے چہار شنبہ کی غیر ثابت شدہ دعائیں، ورد و وظائف، خصوصی غسل، مخصوص پکوان بنانا، یا “نظر بد” اور “آفات صفر” سے بچنے کے لیے تعویذ گنڈے پہننا یہ سب بدعات اور شرکیہ اعمال ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے تعویذ گنڈے کے بارے میں سخت الفاظ میں فرمایا: *”جس نے کوئی تعویذ لٹکایا، اللہ اسے اس کے حال پر نہ چھوڑے، اور جس نے کوئی گھونگا (موتی کا ٹکڑا وغیرہ) لٹکایا، اللہ اسے اس کے حال پر نہ چھوڑے۔ “* (مسند احمد: 17422، صححہ الالبانی)۔ ایسی توہمات کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ عقائد شرک کا دروازہ کھولتے ہیں، اللہ پر توکل (بھروسہ) کو تباہ کرتے ہیں، اور عمل میں سستی پیدا کرکے معاشی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ شادیوں، نئے کاروباروں، تعلیمی سفر یا گھر بنانے جیسے مفید کاموں کو ملتوی کرنا اسلام کی تعلیمات (حصول علم، کسب حلال، جہاد فی سبیل اللہ) کے منافی ہے۔ نبی کریم ۖ نے بدعات (دین میں نئی باتیں گھڑنے) کے بارے میں سخت انتباہ فرمایا: *”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔”*(صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)۔ صفر کی مخصوص دعائیں، نمازیں یا رسومات اسی تعریف میں آتی ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ صفر کے مہینے میں عام اسلامی مہینوں کی طرح زندگی گزارے۔ نمازیں پابندی سے پڑھیں، قرآن کی تلاوت کریں، استغفار کی کثرت کریں، صدقہ و خیرات، صلہ رحمی، والدین کی خدمت، یتیموں اور مسکینوں کی مدد جاری رکھیں۔ شادی بیاہ، نئے کاروبار، سفر، گھر تعمیر کرنا، ملازمت شروع کرنا تمام حلال کام بلا خوف و خطر جاری رکھیں۔ اہم فیصلوں کے لیے اللہ پر بھروسہ کر کے آگے بڑھیں۔ اگر کوئی تکلیف یا مصیبت آئے، تو اسے کسی مہینے کی نحوست کی بجائے اللہ کی طرف سے آزمائش یا گناہوں کی معافی کا ذریعہ سمجھ کر صبر کریں۔ مومن کا رویہ ہر حال میں مثبت ہونا چاہیے، جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: *”مومن کا معاملہ کتنا ہی عجیب (اور بہتر) ہے! اس کا ہر کام اس کے لیے بہتری کا باعث ہوتا ہے… اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے… اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے…”*(صحیح مسلم: 2999)۔ خلاصہ یہ کہ صفر کے مہینے سے متعلق تمام توہمات، بدفالی، غلط رسومات اور پابندیاں دین اسلام کے خلاف بغاوت اور جاہلیت کی تاریکی کی طرف واپسی کی علامت ہیں۔ قرآن و حدیث کی واضح نصوص ان کی تردید کرتی ہیں۔ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان تمام باطل عقائد و رسوم کو ترک کرے، اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین اور مکمل بھروسہ (توکل)کرے، ہر مہینے کو اللہ کی عبادت، نیکی اور حلال کاموں میں گزارنے کا عزم کرے، اور معاشرے میں پھیلی ان جہالتوں کے خلاف علم کی روشنی پھیلائے۔ یاد رکھیں، خیر و شر، زندگی و موت، رزق و مصیبت سب کا مالک صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے۔ وقت اور مہینے اس کے حکم کے تابع ہیں۔ صفر کو منحوس سمجھنا درحقیقت اللہ کی تقدیر اور حکمت پر شک کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں