90ء کی دہائی میں جب میں شعبہ صحافت میں آیا تو جن دوستوں نے مجھے خوش دلی’ خندہ پیشانی سے ویلکم کیا، ان میں سینئر صحافی طاہر رشید بھی شامل تھے، اﷲ تعالیٰ نے ان کو حسن اخلاق اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ عطا فرما رکھا تھا اور وہ اپنے دوستوں’ ملنے والوں حتیٰ کہ ہر خاص وعام کے کام آ کر قلبی سکون محسوس کرتے تھے، ان دنوں الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا اور ہر طرف پرنٹ میڈیا اپنے عروج پر نظر آتا تھا، سینئر صحافی منیر عمران روزنامہ پاکستان کے فیصل آباد میں بیوروچیف اور محترم طاہر رشید چیف رپورٹر تھے، روزنامہ پاکستان کے دفتر میں سیاسی’ سماجی رہنمائوں سمیت ہر طبقہ فکر سے وابستہ افراد کا اکٹھ نظر آتا اور لوگ اس دفتر کو ”جھنڈا چائے والا” جیسی بیٹھک قرار دیتے تھے۔ سینئر صحافیوں حافظ اکرام اختر’ میاں شہباز احمد’ مقبول لودھی اور رفعت قادری کے پاس بھی صحافیوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور میرے بھی ہمیشہ ان سے بڑے اچھے تعلقات رہے، روزنامہ خبریں میں محمد یوسف’ روزنامہ جنگ میں محمد شفیق’ ڈیلی ڈان میں غلام محی الدین جبکہ ڈیلی بزنس رپورٹ میں اعجاز انصاری اور سید اظہار الحسن نقوی اپنی صحافتی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے، میں ”ڈیلی بزنس رپورٹ” سے پہلے روزنامہ اساس اور روزنامہ غریب میں اپنے صحافتی فرائض سرانجام دیتا رہا، 90ء کی دہائی میں جب فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کا قیام عمل میں آیا تو محمد یوسف کو صدر اور مجھے سینئر نائب صدر منتخب کیا گیا، میرا یہ منصب بھی اپنے صحافی دوستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور رابطوں کے فروغ کا باعث بنا اور مجھے خوشی ہے کہ میں ہمیشہ اپنے صحافی بھائیوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد اور ان کی خوشیوں کو اپنی خوشیاں سمجھ کر ہمیشہ ان کے ہمقدم رہا، سینئر صحافی طاہر رشید سے بھی میرا دوستانہ تعلق مثالی رہا’ وہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے اور انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ ہمیشہ احسن سلوک روا رکھتے ہوئے حق دوستی نبھایا، وہ اب ہم میں نہیں رہے مگر ان کی باتیں’ ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، بلاشبہ! کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے اس دارفانی سے کوچ کر جانے کے باوجود ان کے بچھڑ جانے کا یقین نہیں آتا اور لگتا ہے کہ حسن اخلاق کے یہ پیکر ابھی ہنستے کھیلتے ہمارے سامنے آ موجود ہونگے، سینئر صحافی طاہر رشید اگرچہ ہمیں داغ مفارقت دیکر اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں مگر ان کے دوست ان کے ہنستے مسکراتے چہرے کو بھلا نہ پائیں گے، وہ روزنامہ خبریں میں بھی اپنی صحافتی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے، جہاں وہ اکثر سینئر صحافیوں اعجاز حشمت’ محمد یوسف اور دیگر دوستوں کے ساتھ گفت وشنید کرتے نظر آتے، ذیل گھر میں بھی آنا جانا ان کے معمول میں شامل تھا اور انہوں نے اسے اپنے صحافی بھائیوں سے ملنے کا ذریعہ بنائے رکھا، انہیں سیاست کا شوق بھی تھا اور انہوں نے ناظم کا الیکشن جیت کر جس طرح دیرینہ عوامی مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل یقینی بنایا وہ ان کے جذبہ خدمت خلق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سینئر صحافی طاہر رشید کے گزشتہ صبح انتقال کی خبر ان کے عزیز واقارب’ دوستوں اور چاہنے والوں کے دلوں پر بجلی بن کر گری’ یہ خبر سنتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد ان کی رہائشگاہ واقع محلہ پنج پیر گلی نمبر5 میں پہنچ گئی، ان کی نمازجنازہ کل بعدازنماز ظہر جھنگ روڈ والے بڑے قبرستان میں ادا کی گئی جس میں سیاسی وسماجی شخصیات’ صحافیوں’ مذہبی وادبی شخصیات سمیت ان کے عزیز واقارب اور چاہنے والوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی’ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار نظر آئی، بے شک! صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے، سچ کی تلاش’ حق کا دفاع اور مظلوم کی آواز بننا ایک صحافی کی اصل پہچان ہے، صحافت خبروں اور معلومات کو جمع کرنے’ ان کا تجزیہ کرنے اور عوام کے لیے پیش کرنے کا ذریعہ ہے، تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جتنا کوئی معاشرہ جمہوری ہوتا ہے، اتنی ہی وہاں زیادہ خبریں سننے’ دیکھنے اور پڑھنے کیلئے میسر ہوتی ہیں اور لوگ زندگی کے مختلف شعبہ جات کے بارے میں اتنے ہی باخبر ہوتے ہیں، صحافت کا اصول ہر دم عوام کی اچھائی کی نیت ہے، خبر کو جب صحافی اس نیت سے ڈھونڈتا ہے تو حقائق بھی مل جاتے ہیں اور ان کے پیچھے وہ سچائی بھی جو خبر کی جان ہوتی ہے، یہ اصول صرف خبر کی حد تک نہیں بلکہ صحافی کے تجزیوں’ آراء اور بات چیت میں بھی اس کا نظر آنا صحافت کی شرط ہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صحافت پھولوں کی سیج نہیں ایک ایسی پُرخاروادی ہے، جہاں اس شعبہ سے وابستہ افراد کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صحافیوں نے اپنے نیک مقاصد میں کامیابی کیلئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، صحافت معاشرے کی آنکھ اور ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافی قومی خدمت کے جذبے سے سرشار رہو تو اس کے قلم سے لکھا گیا ہر لفظ اثر رکھتا ہے، صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف وہی بات کریں جو ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہو اور جس سے معاشرے میں بہتری پیدا ہونے کی امید ہو، سینئر صحافی طاہر رشید نے ہر دور میں علم صداقت کو سربلند رکھا اور معاشرتی برائیوں کی بے باک طریقہ سے نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ زندہ قومیں قربانی کے جذبہ سے سرشار اور اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسروں کی خیرخواہی میں مصروف نظر آتی ہیں، میرے دوست’ سینئر صحافی طاہر رشید بھی زندگی بھر اسی جذبہ سے مصروف عمل رہے اور صحافتی وسماجی میدان میں جو گرانقدر خدمات سرانجام دیں انہیں فراموش نہ کیا جا سکے گا، ان کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی، انہوں نے اپنے قلم کے زور سے قومی مفادات کا تحفظ کیا اور آزادی صحافت پر آنچ نہ آنے دی جبکہ ناظم منتخب ہوئے تو عوامی خدمت کی تاریخ رقم کر دی، نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ان کی ترجیحات میں شامل تھا اور وہ ہر وقت کسی نہ کسی کی خدمت کیلئے تیار اور نیکی کے موقع کے منتظر رہتے تھے، چند روز قبل فون پر ان کیساتھ بات چیت ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ بھائی! بڑی خوشی کی بات ہے کہ تم نے اپنا قبلہ درست کیا ہے، اسے درست ہی رکھنا، گزشتہ صبح ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیار اشک رواں ہو گئے، دعاہے کہ اﷲ تعالیٰ میرے دوست طاہر رشید کو جنت الفردوس میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔




