عتیق الرحمن سیفی، شعبہ صحافت کی ممتاز شخصیت

صحافت ملائکہ کی سنت ہے۔ تخلیق آدم کے وقت فرشتوں نے اللہ کے حضور اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کیا تھا۔ صحافت ہی اپنی رائے کو آزادی سے بیان کرنا ہے۔ عتیق الرحمن سیفی مرحوم ایک ہردلعزیز شخصیت دردمند دل رکھنے والے محب وطن صحافی تھے، آپ نے ہمیشہ عوام کی آواز کو قلم اور زبان کے ذریعے اعلی حکام تک پہنچایا، اور اس لحاظ سے وہ انتہائی خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے جس دور میں صحافت کی آزادی اظہار کے حوالہ سے ان کا دور آج کے دور سے بہت مختلف تھا، فیصل آباد جو کہ ایک دیہی منڈی تھی اپنی صحافیانہ کاوشوں سے اسے ایشیا کی بڑی ٹیکسٹائل منڈی بنانے میں اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ وفات کے بعد ان کو ملک بھر میں انتہائی اچھے انداز میں یاد کیا جارہا ہے اور جس شخص کو دنیا سے جانے کے بعد اچھے طریقے سے یاد کیا جائے اس سے اللہ بہتر معاملہ فرماتا ہے، کسی پیاری شخصیت سے اچانک محروم ہونا ایک ایسی کمی ہے جس پر قلم کی آنکھ سے یاد رفتگان کے حوالہ سے لکھنا آنسوئوں کو ضبط تحریر میں لانے سے کم نہیں ہوتا، تاہم تقاضائے بشریت جانے والوں کی یاد میں ملول و مغموم ہونا ایک فطری امر بھی ہے، آپ 1937 سے شروع ہونے والے برصغیر کے اولین اخبار روزنامہ سعادت لائلپور کے ایڈیٹرمحترم امام بخش ناسخ سیفی گولڈ میڈلسٹ کارکن تحریک پاکستان خاندان کے چشم و چراغ، رضوان سیفی کے بڑے بھائی، شاہد محمود ایڈیٹر روزنامہ تجارتی رہبر کے والد محترم اور علامہ اختر سدیدی مرحوم کے بھانجے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں صحافت ہمیشہ سے ہی ایک کٹھن پیشہ رہا ہے، پاکستان کی صحافتی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہزاروں لوگ اس شعبے سے وابستہ رہے۔ بہت نیچے سے آکر نام کمانے والے بھی ملیں گے اور بہت مال بنانے والے بھی۔ مال بنانے والوں نے صحافت کو ہمیشہ ایک پیشہ سمجھا اور پیشے میں نام کے بجائے ساری توجہ مال بنانے پر دی لیکن مرحوم نے ایک ملی جذبہ کے ساتھ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنی گرانقدر خدمات کے ناطے ایسی خدمات سرانجام دیں جو وطن دوستی کے حوالہ میں ہمیشہ نمایاں رہیں گی۔
مرحوم کیساتھ میری پہلی ملاقات 1978 کے اوائل میں ہوئی ، جب میں نے ایک تنظیم سیونگ مشین مرچنٹس ایسوسی ایشن بنائی اور اس کی تقریب حلف برداری جو مولانا تاج محمود کی صدارت میں ہوئی اس کی خبر کے حوالہ سے میں ان کوکچہری بازار گلی وکیلاں میں ان کے دفتر ملا ، انہوں نے بکمال محبت میرے پریس ریلیز کے الفاظ درست کیئے اور اس ضمن مستقبل کی خبروں کی ایڈیٹنگ اور مضمون نویسی کے حوالہ سے بہت ساری باتیں گوش گذار کیں، ان کے ہاتھوں یہ میری تحریر کی رہنمائی کا پہلا ستون تھا جو ان سے ملا، اور اس کے بعد زندگی بھر بے شمار ملاقاتیں رہیں ، ہمیشہ ان کی رہنمائی سے بہت آسانیاں ملیں، اور میں بنیادی طور پر ایک بزنس مین تھا، سماجی معاشی اعتبار سے مضمون نویسی میری دلچسپی رہی اور مجھے اللہ سبحان تعالی نے ان جیسے محب رہنمائوںکی معاونت اور کتب، رسائل کے مطالعہ کی علمیت پر مجھے کئی دہائیاں نوائے وقت کے ادارتی صفحہ میں کالم ہماری معیشت لکھنے کے ساتھ ساتھ، ڈان، بزنس ریکارڈر جیسے مقامی اور نیوز ویک، سائوتھ ایشیا جیسے عالمی اخبارات میں مضمون شائع کروانے کے ساتھ ساتھ شعبہ بزنس کے حوالہ سے بہت ساری کتب لکھنے کا موقعہ ملا اگر ان سے عقیدت کے حوالہ سے اگر یہ کہوں کہ محبت اور عقیدت کے پھول آنکھوں کے گملوں میں ہوتے ہیں جو پلکوں کی حفاظت میں سینچے جاتے ہیں غلط نہ ہو گا۔ کرونا کی وبا کے بعد میں اپنے آفس سے گھر کے آفس میں منتقل ہو گیا اور اس ناطے میری بہت سارے احباب کے ساتھ اب نشست نہیں ہوتی، اور میں ان سے مل نہیں پاتا۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ فیصل آباد کی صنعت و تجارت بہت ساری صحافتی شخصیات کی مقروض ہے جنہوں نے اس شہر کو ایک زرعی دیہاتی منڈی سے ٹیکسٹائل کا حب منانے میں کاوشیں کیں ان کی خدمات کی قدر نہیں کی گئی ، 1970 کی دہائی میں یہ شہر سرگودھا ڈویژن اور ملتان زون کے انڈر تھا، تمام حکومتی محکمے سرگودھا اور ملتان ہوتے تھے، اس شہر کو ڈویژن بنانے،یہاں انکم ٹیکس، کسٹمز، سیلز ٹیکس، لیبر ڈائریکٹوریٹ، انفارمیشن ڈائریکٹوریٹ، کنٹرولر امپورٹس ایکسپورٹس، ایکسپورٹ پروموشن بیورو، ریڈیو سٹیشن، جیسے حکومتی ادارے بنوانے، شہر میں چمبر آف کامرس ، اور مختلف ٹیکسٹائل کی ملک گیر تنظیموں کے قیام کے ضمن میں ان سب کی آواز جس میں صنعت و تجارت کے مسائل تجاویز ہوتی تھیں انکو مربوط صحافتی خبر نویسی سے حکام بالا تک پہنچایا، مرحوم کی زیر ادارت چھپنے والا روزنامہ تجارتی رہبر فیصل آباد کا وہ واحد اخبار رہا جس نے اکنامک جرنلزم کی موٹیویشن کے تحت مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے کے حکومتی روابط کو استوار کرنے میں میں فعال کردار ادا کیا، اور اس حوالہ سے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ
ہم خود تراشتے ہیں منازل کے راہ سنگ
ہم وہ نہیں جن کو زمانہ بنا گیا
فیصل آباد کی صحافتی تاریخ میں ادارہ سعادت، تجارتی رہبر کا بڑا مقام ہے اس بات کی امید ہے کہ ان کے بیٹے شاہد محمود اس تسلسل کو مامیابی سے آگے بڑھائیں گے، والد کے ساتھ شانہ بہ شانہ محنت سے آپ بھی ایک طویل عرصہ سے اکنامک جرنلزم کے حوالہ سے لائق تحسین کام کررہے ہیں اور ان کے دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں سلامت رکھیں اور وہ اپنے والد کے مشن کے حقیقی امین بن سکیں۔ یاد رفتگان، اور یاد ماضی کے حوالہ سے یادیں طویل ہیں ، ان کی کسک کے حوالہ سے یہی کہونگا کہ
کیسی کیسی محفلیں تھیں کیسے کیسے لوگ تھے
وہ سنہرا دور ماضی اب پلٹ سکتا نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں