لاہور (بیوروچیف) پنجاب میں غنڈہ گردی اور گینگ سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے نئے قانون کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے تحت موجودہ غنڈہ ایکٹ 1959کو تبدیل کر کے زیادہ سخت اور جامع قانون لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مجوزہ قانون کے مطابق عادی مجرموں کو اینٹی سوشل پرسن قرار دیا جائے گا، جبکہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹیوں کو مشتبہ افراد کی نشاند ہی اور انہیں ڈکلیئر کرنیکا اختیار بھی دیا جائیگا۔قانون کے تحت 3سے 5سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ بار بار جرم کرنے والوں کے لیے7 سال تک قید اور 20لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا بھی شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ بینک اکانٹس منجمد کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کے اختیارات بھی قانون کا حصہ ہوں گے۔پولیس کو الیکٹرانک نگرانی اور جدید سرویلنس کے اختیارات دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ جرائم کی روک تھام مثر انداز میں کی جا سکے۔نئے قانون کے دائرہ کار میں ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، قبضہ مافیا کے جرائم کیساتھ ساتھ سائبر کرائم اور ہراسگی کے کیسز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ پنجاب کابینہ نے مجوزہ قانون کی منظوری دیدی ہے۔




