غیر معیاری کاسمیٹکس کی روک تھام کیلئے اتھارٹی قائم کی جائیگی

اسلام آباد (بیوروچیف)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی نے غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور درآمد کرنے پر قید اور جرمانوں کے بل کی منظوری دے دی۔ بدھ کو کامل علی آغا کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی میں جنرل کاسمیٹکس بل 2026ء پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے بتایا کہ ملک میں کاسمیٹکس پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں۔ بیوٹی کریم میں مرکری کے استعمال سے جلد کا کینسر پھیل رہا ہے۔ قانون سازی اور معیار نہ ہونے کے باعث کاسمیٹکس ایکسپورٹ بھی نہیں ہوسکتیں۔ کاسمیٹکس بنانے والے ارب پتی بن چکے ہیں۔چیچہ وطنی سب سے بڑا مرکز ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے لوگ بیگ بھر بھر کر کاسمیٹکس لاتے ہیں جو بڑے اسٹورز پر فروخت ہوتی ہیں۔ اس بل میں کاسمیٹکس کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ غیرمعیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ کرنے پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ غیر معیاری کاسمیٹکس کی روک تھام کیلئے اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں