قومی ویکسیئن پالیسی کی منظوری اہم سنگ میل قرار

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے پرعزم ہے اور قومی ویکسین پالیسی کی منظوری ملکی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے، اس پالیسی کے بعد پاکستان کو ویکسین تیار کرنے کا باقاعدہ اختیار حاصل ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں ملک خود ویکسین بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)کے دورہ کے دوران کیا جہاں ان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیڈرل سیکرٹری ہیلتھ، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت 2D بارکوڈ کے نفاذ پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈریپ کی جانب سے جاری آٹومیشن اقدامات کا بھی معائنہ کیا گیا۔اجلاس میں قومی ویکسین پالیسی کی منظوری کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل، انڈونیشیا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت اور گلوبل بینچ مارکنگ فار نیشنل ریگولیٹری سسٹم سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کے گلوبل بینچ مارکنگ سسٹم کے موثر نفاذ کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ خود کوآرڈینیشن کریں گے۔اجلاس میں نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکل کی اپ گریڈیشن اور ڈریپ میں جاری بھرتیوں کے عمل پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ ڈریپ میں جاری اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور ادارے کو عالمی معیار کے مطابق ایک موثر ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ڈریپ ڈبلیو ایچ او کے لیول تھری سٹیٹس کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات میں تیزی لائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پیش رفت کے بعد پاکستانی ادویات کو دنیا کے 150 ممالک تک رسائی حاصل ہو سکے گی جبکہ اس وقت پاکستان کی ادویات 51 ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں