گھنٹہ گھر کے گرد قائم 8بازاروں کے نام اس سمت واقع کسی اہم علاقے کی غمازی کرتے ہیں۔ مشرق جانب ریل بازار۔ اس کی بیرونی سمت ریلوے روڈ واقع ہے، جو ریلوے اسٹیشن کو جا نکلتا ہے۔شمال مشرق میں کچہری بازار۔ اس کی بیرونی طرف عدالتیں قائم ہیں۔شمالی جانب چنیوٹ بازار۔ اس طرف ضلع چنیوٹ واقع ہے۔شمال مشرق میں امیں پور بازار۔ یہاں سے ایک سڑک امیں پور بنگلہ کی طرف جاتی ہے۔مغرب میں بھوانہ بازار۔ اس سمت میں بھوانہ واقع ہے۔ جنوب مغرب میں جھنگ بازار۔ اس بازار کا رخ جھنگ کی طرف ہے۔جنوبی جانب منٹگمری بازار۔ اس بازار کا نام ساہیوال کے پرانے نام منٹگمری کی وجہ سے رکھا گیا، جو اسی سمت واقع ہے۔جنوب مشرق میں کارخانہ بازار۔ اس جانب قدیم دور میں کارخانے قائم تھے، جن میں سے چند ایک اب بھی باقی ہیں۔گول بازار۔ یہ بازار مذکورہ بالا آٹھوں بازاروں کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے گزرتا ہے اور اس گول دائرہ نما بازار کے ذریعے وہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔پہلے یہ علاقہ تحصیل چنیوٹ کا حصہ تھا، 1896میں لائل پور کو تحصیل کا درجہ دیا گیا، شہر کی تمام بنیادی تعمیرات اور سرکاری دفاتر 1896سے 1899کے درمیان تعمیر ہوئے جس کے بعد اسے 1899میں سب ڈویژن بنا دیا گا۔ 1898میں کارخانہ بازار کے باہر میونسپلٹی عمارت اور چنیوٹ بازار کے باہر ٹیلی گراف دفتر بنایا گیا جہاں آجکل پی ٹی سی ایل ہے۔ 1904میں مکمل ضلع کا درجہ دیکر سمندری ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جڑانوالہ کو اس کا حصہ بنا دیا گیا۔ شہر کے باہر مگر سرکلر روڈ کے اندر پہلی رہائشی کالونی ڈگلس پورہ بسائی گئی جسے سامنے اینگلو انڈین ورنیکلر سکول تھا جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی بن چکا ہے۔ اس کے بعد گورونانک پورہ، ہرچرن پورہ، گووندپورہ بنائے گئے جو سکھوں اور ہندوں کی آبادیاں تھیں۔ تقسیم کے بعد یہ لوگ انڈیا منتقل ہو گئے اور یہ مکانات زیادہ تر ان لوگوں کو الاٹ کیے گئے جو لدھیانہ اور جالندھر سے آئے۔گورنمنٹ کالج کے قریب علاقہ سکھوں کی ملکیت تھی اور اسی وجہ سے 37-1936 میں گرونانک پورہ وجود میں آیا۔ اس علاقے کا رقبہ 50ایکڑ تھا۔ تقسیم ہند کے بعد یہ مکان جالندھر سے آنے والے مہاجرین کو الاٹ کیے گئے۔آٹھ بازاروں سے باہر ایک گوبند پورہ کالونی قائم کی گئی اس کالونی کو گوبند سنگھ نے بنایا اور اسی علاقے میں نہال سنگھ اور گوبند سنگھ کا ایک بڑا مکان بھی تھا۔ یہ مکان اب بھی موجود ہے لیکن کئی حصوں میں بٹ چکا ہے۔شہر کے وسط میں ایک کنواں تھا چک رام دیوالی سے مٹی لاکر کر اس کنویں کو پاٹ دیا گیا اور وہاں گھنٹہ گھر کی تعمیر شروع ہوئی، گھنٹہ گھر بادشاہ جارج پنجم کی ملکہ کیرولین کی یاد میں بنایا گیا تھا جو 1820میں وفات پا گئی تھیں۔ گھنٹہ گھر کا سنگ بنیاد لیفٹیننٹ سر چارلس ریوواز نے 14نومبر 1903کو رکھا، ملتان سے مشہور ترین کاریگر گلاب خان کو بلایا گیا کیونکہ گلاب خان اس خاندان سے تھا جنہوں نے تاج محل تعمیر کیا تھا۔ گھنٹہ گھر تعمیر ہوا تو بمبئی سے خاص گھڑیاں منگوا کر لگائی گئیں جو آج بھی موجود ہیں جبکہ پتھر 50کلومیٹر دور واقع سانگلہ کی پہاڑی سے لایا گیا۔ تعمیر پر چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے جو شہر کے تاجروں نے اکٹھے کیئے تھے، گھنٹہ گھر کی نقاب کشائی 13دسمبر 1905کو فنانس کمشنر پنجاب سر لوئیس ٹوپر نے کی۔ چارمنزلوں پر مشتمل اس عمارت کی کل اونچائی تقریبا 100فٹ ہے جبکہ اندر کی طرف ہر منزل پر پہچنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں، جو آج بھی گھڑی کو چابی دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔کلاک ٹاور کی چوتھی منزل پر نصب گھڑی خاص طور پر بمبئی سے لائی گئی تھی اور اس کا پینڈولم تیسری منزل میں لٹکا ہوا ہے۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر کے وقت اس کے گرد 4فوارے بنائے گئے تھے، جو کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار کی سمت موجود تھے اور انہیں آٹھوں بازاروں میں سے دیکھا جا سکتا تھا، ان میں سے 2فوارے غائب ہو چکے ہیں اور صرف کچہری بازار اور جھنگ بازار کی سمت والے فوارے قائم ہیں۔1906میں شہر میں زرعی کالج قائم کرنے کی منظوری دی گئی 1909میں پہلی کلاس شروع ہوئی، 1961 میں کالج کو زرعی یونیورسٹی کا درجہ مل گیا۔ موجودہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد زرعی کالج کا ریسرچ فارم ہوا کرتا تھا جسے 1961میں یونیورسٹی بننے کے بعد الگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ بنادیا گیا۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ دنیا بھر میں انیس سو ساٹھ کی دہائی میں نوبیل لاریٹ ڈاکٹر نارمن بورلاگ کی قیادت میں آنے والے سبز انقلاب میں لائلپور کے زرعی کالج اور اسکے تجرباتی فارم کا بھی نمایاں کردار تھا۔ نارمن بورلاگ گرین ریوولیوشن کے دوران اپنی گندم کی اقسام کی ٹیسٹنگ کے لیے انیس سو اکسٹھ یا باسٹھ میں لائلپور تشریف لائے تھے اور لائلپور ہی کے دو سپوت ایس اے قریشی اور منظور باجوہ بور لاگ کی گرین ریوولیوشن ٹیم کا حصہ تھے۔ 1910میں انگریزوں کیلئے چناب کلب بنایا گا جہاں تقسیم تک مقامی لوگوں کو داخلے کی اجازت نا تھی، 1910میں ہی شہر سے باہر ریت کے ٹیلوں کو ختم کرکے لائلپور ریلوے سٹیشن بنا کر شہر کو ٹرین کے زریعے شورکوٹ سے ملا دیا گیا، چناب کلب کے باہر انگریزوں نے عبادت کیلئے گرجاگھر اور سٹیشن کے سامنے گالف کورس بنایا جہاں اب سول ہسپتال ہے۔ چناب کلب کے پیچھے بادشاہ جارج پنچم کا مجسمہ بنا کر اس کے گرد ایک پارک بنایا گیا جس کا نام کنگز گارڈن رکھا گیا تھا اس باغ کا نام بعد میں قیصری رکھ دیا گیا لیکن عوام میں باغ جناح اور کمپنی باغ کے نام سے مشہور ہے، تقسیم کے بعد بادشاہ کا مجسمہ وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ شہر کے ابتدائی آباد کار میں نمایاں نام ماسٹر سندرسنگھ لائلپوری ہیں جو جالندھر سے آکر آباد ہوئے، سر سکندر حیات اور گیانی کرتار سنگھ ماسٹر جی کے شاگرد تھے۔ سندرسنگھ نے نیشنل موومنٹ کے نام سے گائوں دیہات میں سکول بنوائے، شہر سے باہر رکھ برانچ کے کنارے تحریک لائلپور سنگھ سبھا کا دفتر بنایا اور پھر اسی عمارت میں خالصہ ہائی سکول بنا جو بعد میں خالصہ کالج بن گیا۔ اکالی کے نام سے ایک پنجابی اخبار شروع کیا جو کچھ ہی عرصے میں برصغیر کا مشہور ترین اخبار بن گیا۔ انگریزوں نے ماسٹر کو گرفتار کرکے کالا پانی بھیج دیا سزا کاٹ کر واپس آئے تو ماہر تعلیم و قانون دان پنڈٹ مدن موہن مالویہ کے مشورے سے لائلپور سے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کا آغاز کیا۔ امریکہ کے سکھوں نے اخبار چلانے کیلئے چندہ بھیجا، انگریزوں نے چندہ پر پابندی لگاکر اخبار بند کروا دیا تو کانگریسی لیڈر گھنشارام نے اخبار کے حقوق خرید لئے آج ہندوستان ٹائمز بھارت کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ دہلی کے صنعت کار لالہ شری رام نے 1933میں لائل پور کاٹن ملز بنائی جس کیلئے مزدور ڈھاکہ اور چٹاگانگ سے لائے گئے، یہ مزدور پان سگریٹ کے عادی تھی اس لئے چٹاگانگ کے مشہور پان فروش چنن کو یہاں لا کر شہر کی پہلی پان شاپ بنائی گئی۔ اس کے بعد شہر میں گنیش ملز، کالونی ٹیکسٹائل ملز، احسان یوسف ٹیسکٹائل مل، کوہ نور ملز قائم ہوئیں۔ ڈجکوٹ روڈ کا پل جہاں ختم ہوتا ہے وہاں سے ایک سڑک کاٹن مل کی جانب جاتی ہے وہاں ایک بہت بڑا خالی میدان تھا تقسیم کے وقت دہلی سے ہجرت کرنے والے اردو سپیکنگ یہاں آ کر آباد ہوئے تھے، یہ زیادہ تر مزدور اور ریڑھی بان لوگ تھے شہر کے مزئدار کھانے حلیم نہاری گول گپے ہریسہ پکانے والے یہی لوگ تھے۔ تقسیم سے پہلے شہر میں آبادی کا تناسب تقریبا 15 فیصد مسلمان اور 85 فیصد ہندو اور سکھ تھے۔ سیاسی سرگرمیاں بڑھیں تو 1932 میں گاندھی، نہرو اور سبھاش چندربوس اور 1939 میں مولانا آزاد نے دھوبی گھاٹ میں جلسے کیئے۔ 1942 میں 17 سے 19 نومبر تک مسلم لیگ کی سالانہ کانفرنس ہوئی جس کیلئے قائداعظم تشریف لائے اور اسمبلی ایم ایل اے سردار سمپورن سنگھ کی حویلی میں دوپہر کا کھانا کھایا جو خالصہ کالج کے قریب تھی، رات کا قیام چنیوٹ بازار کے باہر ملک حیات خان کی حویلی میں کیا جسے گرا کر میکڈونلڈ بنا دیا گیا تھا اور نئی عمارت بن چکی ہے اسی دورے میں قائداعظم نے اکالی دل سکھوں کے راہنما گیانی کرتار سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ قائداعظم کے اعزاز میں شہر کے عمائدین نے قیصری باغ میں ایک شاندار کھانے کا اہتمام بھی کیا تھا۔ دھوبی گھاٹ گرانڈ میں جلسے میں مسلم لیگ لائلپور نے قائد کو تین ہزار روپے کا چندہ اکھٹا کر کے دیا تھا۔ تقسیم کے بعد یہاں کی ہندو اور سکھ آبادی مشرقی پنجاب چلی گئی جبکہ مشرقی پنجاب کے اضلاع ہوشیار پور، جالندھر، لدھیانہ، امرتسر، فیروزپور، گرداس پور، مجیٹھا، فاضیلہ اور دہلی سے مسلمان ہجرت کرکے لائلپور آ گئے، شہر کی اکژیت مہاجر آبادی ہے۔ 1979 میں شہر کا نام تبدیل کرکے فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ فیصل آباد کی تاریخ جاننے کیلئے ضلع کونسل کے سامنے میونسپل لائبریری کی عمارت میں بنا ہوا لائلپور عجائب گھر ضرور دیکھنا چاہئے اس میں فیصل آباد کی تاریخ اور اس خطے کی قدیم ترین تاریخ کی نشانیاں موجود ہیں۔ ڈجکوٹ کے قرب سے ایسی اینٹیں ملی ہیں جو ہزار سال پرانی ہیں۔ لائلپور میوزیم پاکستان کا علاقائی عجائب گھر ہے۔ جو ساندل بار کے علاقے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ساندل بار ،دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان ایک علاقہ ہے۔ اس خطے سے وابستہ صدیوں پرانی ثقافت کولائلپور میوزیم کے توسط سے اجاگر کیا گیا ہے۔لائلپور عجائب گھر ،دس مختلف گیلریوں پر مشتمل ہے۔ گرانڈ فلور پر پانچ گیلریاں ہیں جن میں پتھر کے دور سے لیکر چناب کالونی تک کے مختلف ادوار کو ایک ترتیب سے دکھایا گیا ہے۔ جن میں تعین سمت سوچ گیلری، ساندل بار گیلری، قدیم ورثہ گیلری، مسلم تا انگریز گیلری اور چناب کالونی گیلری شامل ہے۔ فرسٹ فلور بھی پانچ گیلریوں پر مشتمل ہے جن میں لائلپور گیلری، سوچ و عمل گیلری، معاشرتی خوبصورتی گیلری، پارچہ بافی گیلری اور تحریک و تاریخ کی گیلری ہے۔




