ماموں کانجن (نامہ نگار)شہر کے سیاسی، مذہبی، سماجی اور کاروباری حلقوں نے ,میڈیا سروے میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بلند وبانگ نعرے اور ہمالیہ جتنے بڑے دعوے کرنے والوں نے عوامی مینڈیٹ حاصل کرکے عوام کے ساتھ کرکٹ کی پالیسی اختیار کررکھی ہے اور انہیں صرف اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کا خیال ہے علاقوں میں تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل اجاگر کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اسے حل نہیں کرتے جس سے عوام میں بداعتمادی اور احساس محرومی پیدا ہورہا ہے۔ عوام کا ووٹ دینے کے بعد یہ حق فائق ہے کہ ان کے مسائل حل کئے جائیں ماموں کانجن کی ترقی کی بجائے پسماندگی کا گراف بڑھتا جارہا ہے اور مسائل کا ماحول بڑھتا جارہا ہے۔ماموں کانجن میں سڑکوں۔سیوریج۔سڑیٹ لائٹس۔سولنگ نالیو ں کی ناگفتہ حالت ہے۔ یہ عوام کو مطمئن کئے بغیر ان کا اعتماد اور خلوص آئندہ الیکشن کے حوالے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا عوام یہ کہنے پر مجبور ہونگے کہ وہ دن گئے جب خلیل میاں باغ فاختہ اڑایا کرتے تھے” منتخب ہونے والے اور سابقہ عوامی نمائندوں کے پاس ہمارے لئے کل وقت نہیں تھا آج ہمارے پاس ان کیلئے وقت نہیں جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔




