ماموں کانجن(نامہ نگار) محکمہ مال کی غلطی سے رجسٹری و انتقال کے شیڈول ریٹ میں ایک صفر زائد ڈلنے سے بننے والا شیڈول ریٹ سوا دو ماہ گزرنے کے باوجود درست نہ ہو سکا،شہریوں کا نوٹس کا مطالبہ’ مبینہ غلطی سے ایک صفر زائد ڈلنے سے بننے والا شیڈول ریٹ سوا دو ماہ گزرنے کے باوجود درست نہ ہو سکا،شہریوں کے احتجاج اوراے سی تاندلیانوالا اورماتحت ریونیو عملہ کی رپورٹس کے باوجود اے ڈی سی آر افس سے شیڈول ریٹ کی درستگی نہیں ہو سکی جسکی وجہ سے ماموں کانجن تحصیل تاندلیانوالا اربن ایریا کے لوگ اپنی جائیدادوں کی رجسٹریاں اور انتقالات کروانے کی بجائے اشٹام پیپرز پر ہی خریدو فروخت کا رسک لینے پر مجبور ہیں تفصیلات کے مطابق ہر سال ڈی سی آفس سے جائیدادوں کی خرید پر سرکاری فیس کے ریٹ بڑھائے جاتے ہیں جو عمومی طور پر 10فیصد ہوتے ہیں مگر اس سال مبینہ طور پر کمپیوٹر کی مسٹیک کی وجہ سے ماموں کانجن،تاندلیانوالا،سمندری اور جڑانوالہ اربن،صدر کے شیڈول ریٹ میں10کی بجائے100فیصد فیس کا اضافہ فیڈ ہو گیا جو یکم جولائی2025سے نافذالعمل ہے تب سے ماموں کانجن اربن ایریا 497,498 اور 509گ ب اور تاندلیانوالا کے لوگوں نے اپنی زمینوں ،جائیداوں کی رجسٹریاں کروانا بند کرکے اشٹام پیپرز پر ہی معاہدے شروع کررکھے ہیں جو یقیننا بہت بڑا رسک ہے معلوم ہوا ہے کہ سمندری اور جڑانوالا کے عوامی اور سیاسی شخصیات نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے شیڈول ریوائز کروا لیا ہے مگر ماموں کانجن اور تحصیل تاندلیانوالا وکلا کی کوشس اور محکمہ ریونیو کی رپورٹس کے باوجود شیڈول ریوائز نہیں کیا جارہا جسکی وجہ سے جہاں فیسوں کی صورت میں محکمہ کو ملنے والا کروڑوں کا ریونیو رکا ہوا ہے وہیں اشٹام پیپرز پر خرید کرنے والے بھی رسک پر ہیں ادھر معلوم ہوا ہے کہ اے ڈی آر آفس سے بھجوائی گئی رپورٹ گم ہو گئی ہے جو انہوں نے دوبارہ طلب کی ہے جو بھی بھجوا دی گئی ہے جس میں شیڈول ریٹ 100 فیصد سے کم کرکے 10فیصد کرنے کی درخواست کی گئی ہے واضح رہے کہ ماموں کانجن میں پہلے ہی محکمہ ریونیو کا شیڈول ریٹ شرح بازاری کے تین گنا تک زیادہ ہے دریں اثنا اگر30 ستمبر تک شیڈول ریوائز نہ ہوا تو کئی لوگ نان فائلر ہو جانے سے انہیں زائد فیسیں ادا کرنا پڑیں گی جو بھی ان سے زیادتی ہو گی۔




