مصنوعی ذہانت کامیابی کا ذریعہ بن چکی ہے

لاہور(بیوروچیف)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں کامیابی کے لیے بڑے کارخانوں یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بلکہ صلاحیت، علم اور جدت ہی اصل سرمایہ ہیں،پاکستانی نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر جذبہ اور مہارت موجود ہو تو ملک کے کسی بھی حصے سے بیٹھ کر یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے کلائنٹس کو خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میںلاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل، وزیر خزانہ میاں مجتبیٰشجاع الرحمن، سابق صدر لاہور چیمبر میاں انجم نثار، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور کنوینر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے آئی ٹی مدثر نعیم سمیت کاروباری و آئی ٹی شعبے سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں اور ہماری معاشی خودمختاری کا سب سے بڑا ذریعہ برآمدات میں اضافہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ویتنام پاکستان سے کم برآمدات کرتا تھا لیکن آج وہ پاکستان کے مقابلے میں چار گنا بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجتے ہیں جبکہ 25 کروڑ آبادی والا پاکستان صرف 30 ارب ڈالر کی برآمدات کر رہا ہے، جس کے باعث ملک کو بار بار آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی مالی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے۔انہوں نے فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مستقبل کی معیشت کے پائلٹ ہیں، حکومت کا کام پالیسی سازی ہے جبکہ نجی شعبے کا کردار ملکی معیشت کے جہاز کو عالمی منڈیوں تک لے جانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میڈ اِن پاکستان کو عالمی سطح پر معیار اور برانڈ کی علامت بنایا جائے گا، جس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تاجروں اور کاروباری برادری کے مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے کیونکہ نجی شعبے کی عزت اور حوصلہ افزائی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی کامیابی کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق بڑے اداروں کی جگہ چھوٹے، جدت پسند اور ٹیکنالوجی سے لیس ادارے لے رہے ہیں اور کامیاب وہی ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو اپنے کاروبار اور کام کا حصہ بنائے گا۔ انہوں نے تمام شعبوں پر زور دیا کہ وہ آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کریں اور آنے والے ٹیکنالوجیکل انقلاب کے لیے خود کو تیار کریں۔ تقریب کے اختتام پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فری لانسرز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں