اسلام آباد (بیوروچیف)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ سسٹم ناکام ہوگیا تو نئے صوبے بنائیں،اگر اسلام آباد ناکام ہو گیا تو اسے تھر والوں کے حوالے کر دیں،اسلام آباد کے ماہرین کہتے تھے کہ تھرکا کوئلہ بے کار ہے، اس میں سرمایہ کاری بیکارہے، تھر بلاک ٹو میں 600 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی، اب 2ہزار میگا واٹ پیدا کی جا رہی ہے،جو تبدیلی تھر میں دیکھی وہ پورے پاکستان میں نظر نہیں آتی، پورا پاکستان حیران ہے کہ تھر کہاں پہنچ گیا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے تھر کول بلاک ون میں پاکستان کے پہلے کوئلہ خشک کرنے والے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے تھر میں جو تبدیلی دیکھی ہے، پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایسی تبدیلی کم ہی نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہی تبدیلی نہیں آئی بلکہ ہر لحاظ سے ترقی ہوئی ہے۔ آج پورا پاکستان حیران ہے کہ تھر کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھرپارکر کی مثال اس ملک کے نظام، 1973 کے آئین اور 18ویں آئینی ترمیم کی بڑی کامیابی کی مثال ہے۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ بھی تھر کی طرح کام کرے اور اس کامیاب ماڈل سے سیکھے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بجلی کی پیداوار پہلے 600 میگاواٹ تھی، جو اب بڑھ کر 2000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ تھر سے قومی گرڈ کی تقریبا 14 فیصد بجلی پیدا ہورہی ہے اور یہ بجلی کم قیمت پر پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب “اسلام آباد کے ماہرین یہ کہتے تھے کہ تھر کا کوئلہ بیکار ہے اور اس کو نکالنے اور اس میں سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن آج تھر کے کوئلے کی بدولت پاکستان کے 1.6 ارب ڈالر کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہورہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر پارکرکے اسکولوں کے طلبہ کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تھر جیسے پسماندہ علاقے کے بچے ملک کے اہم امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں، جبکہ ایک طالب علم نے چین کا امتحان بھی ٹاپ کیا ہے، اور یہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے اور پوری قوم کو ان بچوں کو مبارکباد دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک سیاسی یتیموں کی جماعت ہے، جو کراچی میں نفرت کی سیاست کرتی ہے، تقسیم کی سیاست کرتی ہے، زائینسٹ سیاست کرتے ہیں۔ آپ نے سنا ہوگا زائینزم۔۔۔ اسرائیل کا فلسطین میں۔ لیکن یہ زائیونسٹ سیاست سندھ میں انٹروڈیوس کرنا چاہتے ہیں۔ اور میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب ایم ڈی کیٹ کے نتائج سامنے آتے ہیں تو ہمیشہ کی طرح ہمارے تھر کے بچے ٹاپ کرتے ہیں۔ انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھر کے بچوں کا ٹاپ کرنا اب ایک روایت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عناصر جو کراچی میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کرتے ہیں، تھر کے بچوں کی کامیابیوں پر انہیں مبارکباد دینے اور تالیاں بجانے کے بجائے اپنی نفرت کی سیاست جاری رکھتے ہیں۔ ان شا اللہ تعالی، ہم ان کی نفرت کی سیاست کو دفن کریں گے، اور تھر ترقی کرتا رہے گا، اور تھر کے بچے ترقی کرتے رہیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انہیں دی گئی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تھر کول میں 94 فیصد ملازمین کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے، جبکہ 60 فیصد ملازمین تھرپارکر ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ڈیولوشن ہو، اگر ترقی اور کامیابی کا مثر ماڈل ثابت ہوئے ہیں تو اسی ماڈل کو پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب وہ وزیر خارجہ تھے تو تھر کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے وہ وزیراعظم شہباز شریف کو یہاں لے کر آئے تھے۔ اس وقت وزیراعظم نے تھر کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد تھر کی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کردیا گیا ہے اور آئندہ بھی اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے سے اب صرف بجلی ہی پیدا نہیں کی جارہی بلکہ اس کے استعمال کو متنوع بنایا جارہا ہے۔ تھر کول سے فرٹیلائزر کی پیداوار اور کوئلے سے گیس بنانے کے منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے تاکہ تھر کے وسائل سے مزید فائدہ اٹھایا جاسکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر فرٹیلائزر کی قلت اور پیدا ہونے والے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ تھر کے کوئلے سے فرٹیلائزر تیار کرنے کے منصوبے ک




