اسلام آ باد(بیوروچیف) مہنگے مقامی قرضوں نے قرضوں کی لاگت میں بھاری اضافہ کردیا۔مالی سال 2024-25 کے دوران مقامی قرضے پر اوسط شرح سود کاریٹ 15 اعشاریہ 82فیصد ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ گزشتہ مالی سال غیر ملکی قرضے پر اوسط شرح سود 4اعشاریہ 14اور مجموعی طورپراوسط شرح سودکا ریٹ 11اعشاریہ 9 فیصد رہا۔گزشتہ مالی سال جی ڈی پی کا 7اعشاریہ 74فیصد سودکی ادائیگیوں پرخرچ ہوگیا، ملک پر مجموعی سرکاری قرضہ عبوری اعداد و شمارکے تخمینے کی بنیاد پر ایک سال کے دوران 7455ارب روپے اضافے کے بعد 78ہزار 701ارب روپے پر پہنچ گیا۔ وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر جی ڈی پی کا 7اعشاریہ 74فیصد یا 8ہزار 887 ارب روپے سے زائد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوئے جس کے تحت مقامی قرضوں کے سودکی ادائیگی پر جی ڈی پی کا 6اعشاریہ 87فیصد اور غیرملکی قرضوں کے سودکی ادائیگی پر جی ڈی پی کا صفر اعشاریہ 87فیصدخرچ ہوا۔وزارت خزانہ کی ستاویز کے مطابق عبوری اعدادوشمار کے تخمینے کی بنیادپرجون 2025تک مجموعی سرکاری قرضہ 78ہزار 701ارب روپے ہوگیا جو جون 2024تک 71ہزار 246ارب روپے تھا یعنی گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران مالی سال 2023-24 کے مقابلے میں عبوری اعدادوشمار کے تخمینے کی بنیادپرسرکاری قرضے میں 7ہزار 455ارب روپے کااضافہ ظاہرہوتا ہے۔




