ملتان (بیوروچیف) ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں غیر معمولی موسمی تبدیلیوں سے گندم کی فصل شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث گندم کی فی ایکڑ پیداوار کم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ کے مہینے میں درجہ حرارت معمول سے 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارچ گندم کی فصل کے لیے نہایت حساس مرحلہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اسی دوران دانہ اپنی تکمیل کے عمل سے گزرتا ہے، تاہم جنوبی پنجاب میں مارچ کے مہینے میں اچانک گرمی کی شدت بڑھنے سے گندم کا سٹہ قبل از وقت نکل آنے کے باعث گندم کے دانے کا سائز چھوٹا رہ گیا ہے اور سٹہ نکلنے کے بعد اپریل کے پہلے ہفتے میں غیر متوقع بارشوں اور ژالہ باری نے جنوبی پنجاب میں 2لاکھ 10ہزار ایکڑ رقبہ پر لگی گدم کی فصل کو متاثر کیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی صورتحال کے باعث فی ایکڑ 30سے 35من گندم کی پیداوار بھی مشکل لگ رہی ہے۔ کسان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والے نقصانات کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھی حد درجہ پریشان ہیں۔گندم کی فی ایکڑ کٹائی کا خرچ گزشتہ سال کی نسبت تقریباً دو گنا ہو چکا ہے جب کہ گندم کا مارکیٹ میں کیا ریٹ لگے گا اس کا ابھی کسان کو نہیں پتا۔جنوبی پنجاب صوبے کی مجموعی گندم کی پیداوار کا تقریباً 70فیصد پیدا کرتا ہے، اس خطے میں ہونے والے موسمی تبدیلیوں کے اثرات فوڈ سکیورٹی کے نئے خطرات کو جنم دے رہے ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی موسمی شدت کے باعث پہلے ہی پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے، اب فصل کو پہنچنے والا نقصان ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے، متاثرہ کسان حکومتی امداد اور فوری سروے کے منتظر ہیں۔




