فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا زاہد توصیف نے کہا کہ 82ارب روپے کی لاگت سے جاری میٹرو بس منصوبہ سے صرف ایک فیصد لوگ استفادہ کر سکتے ہیں جبکہ اسکے برعکس 30فیصد لوگ تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے کیونکہ سڑکیں چھوٹی ہونے سے ٹر یفک کے مسا ئل پیدا ہوں گے۔ اگر یہی کثیر رقم فیصل آباد کے مسائل کے حل اور پسماندگی کے خاتمہ کے لئے خرچ کی جاتی تو مسائل سو فیصد ٹھیک ہو جاتے اور فیصل آباد ورلڈ کلاس سٹی بن جاتا سب سے پہلے 40’انڈر پاسز کی ضرورت ہے ۔ اگر بالفرض ایک انڈر پاس کی تکمیل کا تخمینہ 50کروڑ کم و بیش لگایا جائے تو مجموعی طور پر 20′ ارب کی لاگت آئے گی ۔2007-08میں انر رنگ روڈ پر 6ارب کی لاگت آ رہی تھی مگر لاگت میں اضافہ کے باعث یہ رقم 15 ارب ہو سکتی ہے۔ گاڑیوں کی پارکنگ ‘ ٹریفک سسٹم میں نمایاں بہتری کے لئے 10پارکنگ پلازوں کی ضرورت ہے۔ جس میں گرائونڈ فلور دکانیں بننے سے انتظامیہ کو کرایہ حاصل ہوگا۔ منصوبہ پر 10 ارب خرچ آئیں گے۔ سڑکوں کی ری ڈیزائننگ ‘ری ماڈلنگ اور فلائی اوور پر 10 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ 5 ارب سے الیکٹروبسیں چلائی جا سکتی ہیں تاکہ لوگوں کو سستی سفری سہولیات میسر آ سکیںاور 5 ارب سے ہی تفریحی پارکس قائم کئے جا سکتے ہیں۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ سکولز ‘ کالجزاور یونیورسٹیز پر 10ارب روپے لگائے جائیں تو معیار تعلیم میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ضلع کے ہسپتالوں ‘ رورل ڈسپنریزپر بھی 10ارب خرچ ہونے چاہیں۔ رانا زاہد توصیف نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے شہر سگنل فری بن سکتا ہے اورشاہراہوں پر سگنلزختم ہونے سے پانی کی طرح ٹریفک کا بہائو ہوگا۔ پارکنگ پلازوں کی تعمیر سے زندگی آسان ہو جائے گی۔ کیونکہ فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے گنجان ضرور ہے مگر رقبہ کے لحاظ سے اتنا بڑا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن کی سطح پرضلع جھنگ’ٹوبہ ٹیک سنگھ’چنیوٹ میں بھی نئے منصوبو ں اور انڈرپاسزکی ضرورت ہے ۔ جڑانوالہ ‘ تاندلیانوالہ ‘ سمندری اورچک جھمرہ میں انڈر پاسز سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے ۔




