فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) نادرا نے تمام کمپیوٹرائز سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل مینوئل کاغذات سکین کرنے کو لازمی قرار دے دیا پیدائش اموات طلاق اور نکاح کے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ اس وقت تک جاری نہیں ہو سکیں گے جب تک مینوئل ریکارڈ کی تصویر ساتھ ارسال نہیں کی جائے گی اس اقدام سے قبل پیدائش اموات نکاح اور طلاق کے کمپیوٹر سرٹیفکیٹ جاری کرتے وقت سیکرٹری یونین کونسل صرف مینوئل رجسٹر کا حوالہ نمبر دے کر سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا تھا – نکاح کا پرت نمبر لکھ کر جاری کیا جا سکتا تھا لیکن اب رجسٹر پیدائش اموات کی تصویر نکاح پرت کی تصویر اور طلاق کے لیے موثرگی طلاق سرٹیفکیٹ مینوئل کی کاپی طلاقِ کی کاپی شناختی کارڈ (لڑکے اور لڑکی دونوں کی کاپیاں ) سکین کر کے پہلے نادرا کو ارسال کی جائے گی اور اس کے بعد سسٹم اوپن ہوکر پروسس کو مکمل کرے گا نادرا تمام کاغذات کو چیک کرنے کے بعد اس کو کمپیوٹر کرنے کی اجازت دے گا مشکوک اور دو نمبر درخواستیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو تصدیق اور منظوری کے لیے بھیجی جائیں گی اور متعلقہ افسران کی منظوری کے بعد سیکرٹری یونین کونسل جاری کرنے کا مجاز ہوگا اس اقدام سے عملہ یونین کونسلز کی مشکلات میں اضافہ ہو گا نادرا کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ انہیں ملازمین یونین کونسلز پر قطعا اعتماد نہیں ہے – واضح رہے کہ اس سے قبل دسمبر میں نادرا حکام نے یونین کونسلز کے پاس موجود تمام ریکارڈ پیدائش اموات نکاح اور طلاق کے رجسٹرز کو مکمل طور پر سکین کر لیا ہے اس کے بعد موجودہ اقدامات عملہ یونین کونسلز پر بد اعتمادی کی بد ترین مثال ہے اس سلسلہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ فیصل آباد نے بتایا کہ اس نئے اقدام سے جعل سازی روکنے میں مدد ملے گی اور کمپیوٹر سرٹیفکیٹ کا عمل مزید شفاف ہوگا ۔




