ساہیوال (بیورو چیف) نادرا کے نئے سافٹ ویٹر نے شہریوں کے لیے برتھ، ڈیتھ اور نکاح کے سرٹیفکیٹ بنوانا عذاب بنا دیا نادرا کی جانب سے اپنے رجسٹریشن سسٹم میں حالیہ اپڈ یٹ کے بعد شہر یوں کو برتھ، ڈیتھ اور نکاح نامے کے کمپیوٹرائرڈ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نئے قوانین اور سٹم میں تبدیلیوں نے عام آدمی سے لے کر سرکاری محکمو ں تک کو الجھن میں ڈال دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق،اب سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل دو سطحو ں پر تقسیم کر دیا گیا ہے ایک سال تک کے رجسٹریشن (برتھ ڈیتھ سیکرٹری یونین کونسل سی آرایم سسٹم میں اندراج کرے گا اور منظوری دے گا۔ سرٹیفکیٹ نارمل بنے گا، لیکن یہ برتھ یا ڈیتھ رجسٹریشن آفیسر کی ذمہ داری پر ہوگا۔ ایک سال سے زائد پرانا ریکارڈ سیکرٹری تو سسٹم میں اندراج کریگا، لیکن پھر یہ کیس ایڈیشنل ڈائر یکٹر لوکل گورنمنٹ کے لاگ ان پر بھیج دیا جائے گا۔ اسے سے ڈی ایل جی پاکستانی شناختی کارڈ کی طرز پر چیک کرے گا ریکارڈ کی مکمل پڑتال کے بعد ہی سرٹیفکیٹ منظوری دی جائے گی۔ جہاں نکاح نامہ کمپیوٹرائز جا رہا ہے، وہاں اس کی تصویر اپلوڈ کرنا لازمی ہے۔ پرانے رجسٹر نمبر سے اپلوڈ کردہ سرٹیفکیٹ کو بھی اے ڈی ایل جی پڑتال کر کے ویریفائی کرے گا ، تب جا کر سرٹیفکیٹ جاری ہوگا اس تبدیلی سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے جہاں یہ عمل چند دنوں میں مکمل ہو جاتا تھا ، وہاں اے ڈی ایل جی کی سطح پر منظوری میں ہفتوں لگیں کے پرانے ریکارڈ کی صورت میں اضافی ثبوت طلب کیے جارہے ہیں۔




