پاکستان کی سلامتی کونسل کے ارکان میں اضافہ کی مخالفت

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب غیر مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی حمایت کردی۔پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب اور نامزد سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جواب دہ بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان کا اضافہ موجودہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرے گا۔ان کے مطابق پاکستان اور یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ سمیت دیگر ہم خیال ممالک سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے، جبکہ درمیانی مدت کی نشستیں متعارف کرانے کے حامی ہیں، جن پر وقفے وقفے سے انتخابات اور رکن ممالک کی باری کے اصول کے تحت تقرری ہو۔عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے 2025-26 میں سلامتی کونسل کی اپنی آٹھویں مدت کے دوران تنازعات کی روک تھام، تنازعات کا پرامن حل، امن مشنز، انسداد دہشتگردی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 اس مدت کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے، جس میں بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود طریقہ کار پر زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 4 روزہ فوجی کشیدگی نے دونوں جوہری طاقتوں کو وسیع تر تنازع کے خطرناک حد تک قریب پہنچا دیا، تاہم اس بحران نے تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت مزید اجاگر کی۔عاصم افتخار کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں بھی اہم کردار ادا کیا، اپریل میں جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات اور جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے عمل میں تعاون کیا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر بھی پاکستان سلامتی کونسل میں بھرپور آواز بنا رہا اور جامع منصوبے برائے غزہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے جنگ بندی، غزہ میں انسانی امداد کے لیے گنجائش اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت و ریاست کے لیے سیاسی راستہ بحال کرنے میں مدد ملی۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے آریہ فارمولا اجلاسوں کے ذریعے جموں و کشمیر کے تنازع اور متعلقہ سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق اس کے پرامن حل کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں