فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان میں کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیرونے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے مسلسل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود دو طرفہ تجارت بہت کم ہے جسے پوٹینشل اور مواقعوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے پاکستانی کینیا سے تجارت کر رہے ہیں لیکن ان میں اضافہ کیلئے مسلسل رابطے ضروری ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کے ممبران سے کہا کہ وہ دو طرفہ مواقعوں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ اُن سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کریں تاکہ اُن پر مثبت پیشرفت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا کے ہائی کمیشن کے کمرشل قونصلر اور سیکنڈ قونصلر بھی اُن کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تجارت سے متعلقہ مسائل پر وہ اپنا رد عمل فوری طور پر دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیا اور پاکستان کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیلوں ، فارماسوٹیکل ، سرجیکل ، ٹیکسٹائل اور مشینری سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کینیا کو صرف ایک ملک کے طور پر نہ دیکھیں کیونکہ وہ کینیا میں صنعتیں قائم کر کے پورے افریقہ کو ڈیوٹی فری برآمدات کر سکتے ہیں جبکہ کینیا کے امریکہ اور چین سے بھی فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہیں جن سے اُن کے ملک میں صنعتیں لگانے والے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان بی ٹو بی میٹنگز کے علاوہ چیمبرز میں بھی تعاون بڑھانے کے سلسلہ میں مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا افریقہ سے تجارت کی بات کررہی ہے لیکن ان حالات میں صرف کینیا ہی کیوں؟۔ انہوں نے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ کینیا میں بہترین بنیادی ڈھانچے اور سستی ہنر مند افرادی قوت کے علاوہ وہاں کا لٹریسی ریٹ بھی 90فیصد ہے جبکہ ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ نائب صدر انجینئر عاصم منیر کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر شہر میں اعزازی قونصلر تعینات نہیں کئے جا سکتے جبکہ اُن کا ملک پہلے ہی ای ویزا کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔اِس سے قبل فیصل آباد چیمبر کے صدر فاروق یوسف شیخ نے دوسری مرتبہ فیصل آباد چیمبر کا دورہ کرنے پر کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیروکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے جبکہ ریونیو جنریشن میں اس کا دوسرا نمبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں 57فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ شہر صرف ٹیکسٹائل کی وجہ سے جانا جاتا تھا مگر اب یہاں ٹائلز، فارماسوٹیکل ، آئی ٹی ، لائٹ انجینئرنگ ، سرجیکل اور دیگر کئی شعبوںکی صنعتیں قائم ہیں جن میں پانچ سو سے زائد چینی، ترک اور انڈونیشیا کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کے سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ 20سے زائد افریقی ممالک کو کنفکشنری کی برآمدات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کینیا کے ذریعے تجارت کا مقصد تمام دوسرے افریقی ملکوں میں آسانی سے داخل ہوناہے کیونکہ وہاں سے ڈیوٹی فری برآمدات کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھے تعلقات کے باوجود اس وقت پاکستان اور کینیا کی دو طرفہ تجارت 1بلین ڈالر ہے جسے آئندہ پانچ سالوں میں دوگنا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کینیا سے تجارت میں حائل بعض مسئلوں کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ ان کو ترجیحی بنیادو ں پر حل کیا جائے۔ سوال و جواب کی نشست میں بیرسٹر محمد دانش اور حلیم اختر ملک نے بھی حصہ لیا۔ آخر میں نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ اور کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیروکے درمیان شیلڈوں اور تحائف کا بھی تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر کینیا کے سیکنڈ قونصلر مسٹر روبن روٹو ، کمرشل اتاشی بونا فیس نجگونا اور پروٹوکول آفیسر محترمہ ماہ رخ محسن بھی موجود تھیں۔




