لاہور(بیورو چیف) پنجاب بار کونسل نے جعلی وکلا ء کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے جعلی دستاویزات پر لائسنس حاصل کرنے والے وکلاء کو رضا کارانہ سرنڈر کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی ۔اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے کہا کہ جعلی ڈگریوں یا جعلی دستاویزات کی بنیاد پر لائسنس حاصل کرنے والے 13 مئی 2026 تک اپنی انرولمنٹ اور لائسنس رضاکارانہ طور پر سرنڈر کر دیں بصورت دیگر ان کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں گے اور انہیں سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوںنے کہا کہ جن افراد کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے وہ بھی مقررہ مدت کے اندر پیش ہو کر سرنڈر کر سکتے ہیں تاکہ مزید قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکیں،مقررہ مدت کے بعد کسی قسم کی رعایت یا معافی نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ پنجاب بار کونسل میں انرولمنٹ کے خواہشمند تمام درخواست دہندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہائر ایجوکیشن سے تصدیق شدہ ڈگریاں پیش کریں گے جن کی موثر جانچ پڑتال ہو گی ۔ وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے کہا کہ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے جسے کسی صورت بدنام نہیں ہونے دیا جائے گا۔اجلاس میں پنجاب بار کونسل کے دیگر اراکین، سیکرٹری رفاقت علی سوہل اور اکائونٹ آفیسر رانا محمد عمیر بھی موجود تھے۔




