کوٹ مٹھن کا خوا جہ غلام فرید

روہی، رونا اور روح ان تینوں چیزوں میں کوئی نہ کوئی مماثلت ضرور ہے۔ تکلیف میں رونا فطری بات ہے اور درد کو روح ہی محسوس کرتی ہے۔ پھر تو کلام ویسا ہی ہوتا ہے جو خواجہ غلام فرید کے ہاں تخلیق ہوا ہے۔ انسان، جذبات، رشتے، مسئلے مسائل، سدھریں، خوف، درد، وچھوڑا، پیار محبت اور پھر انسان سے متعلق ہر چیز۔ بات تو آنکھیں کھول کے رکھنے کی ہے اور پھر محسوس کرنے کے لئے درد دل چاہیئے۔ سوزو گداز ۔ اور یوں پرسوز آواز ہر گزرنے والے کو کوٹ مٹھن رکنے پر مجبور کرتی ہے اور جو واقعی رک جاتا ہے اس کے دل کے تار بجنے لگتے ہیں۔ کسی دور میں کسی اہم پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ تار ہوتا تھا اور جب تاریں کھڑکتی تھیں تو پھر اپنوں کی خیر خبر آتی تھی۔ خوشی اور غم ساتھ ساتھ۔ ویسے بھی ہاسے اور ہنجواں دی کہانی کو ہی زندگی کہتے ہیں۔ اس زندگی کی جھلک خواجہ غلام فرید کے ہاں اپنی اصلی حالت میں پائی جاتی ہے۔ صوفی شعرا نے لوکائی کے درد کو محسوس کیا اور پھر ان پر ٹکا کے وین کئے اور جب ماحول سنجیدہ ہو گیا تو رونے دھونے کی وجہ تلاش کی اور پھر ہم سب کو ماندی ناں تھی کا درس دے کر جینے کا ڈھنگ سکھادیا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ سلسلہ کب شروع ہوا ہے کیونکہ کائنات کبھی بھی اہل فکرودانش سے خالی نہیں رہی ہے اور اگر برصغیر پاک وہند میں صوفیانہ شعروادب کی بات کی جائے تو یہ سلسلہ حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر سے شروع ہوتا ہے اور چلتے چلتے پیر مہر علی شاہ اور خواجہ غلام فرید تک آکر اپنی معراج کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی دور بھی ہو صوفیانہ رنگ ہر ذی روح کو متاثر کرتا ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سارے کلام میں غالب رنگ روح کا ہے اور جب روح کی بات روہی میں بیٹھ کر کی جائیگی تو پھر کافی کا کلائمکس ہو گا اور کافی کو سننے والے ہر شخص کی آنکھ پر نم ہو گی اور دل پردرد ہو گا۔ درد دل ہی انسان کی پہچان ہے اور زندگی کی دلیل ہے۔ ان حالات میں ہی دسترخوان سج جاتے ہیں اور ہر کس وناکس کو آواز دی جاتی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسی پردرد آواز پر کوئی لبیک نہ کہے۔ غوثیہ لنگر اور “ہمو واشربو انتم جنودی” کی غوثیہ صلائے عام اور پھر مکمل علاج۔ بدن اور روح دونوں شفا یاب اور دل اور دماغ ایک ہی پچ پر اور مزید آگے نکل کر کھیلنے کا ڈھنگ بھی سکھا دیا جاتا ہے یوں میدان زیست میں چوکے اور چھکے لگائے جاتے ہیں اور یہ سارے ریکارڈ دل میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں جو سینہ بسینہ چلتے ہیں اور چلتے چلتے آج تک پہنچ جاتے ہیں اب ہم ہیں، پیغام عشق ہے اور ہمارے بعد آنے والے لوگ ہیں۔ یہ سلسلہ تو چلتا ہی رہے گا ہم نے ہوش کے ناخن لینے ہیں اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے لیکن اس کردار کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ ہم صاحب کردار ہوں اور صاحب کردار ہونے کے لئے خواجہ غلام فرید کے افکار سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔مسلمانوں نے برصغیر پاک و ہند پر کئی سو سال حکومت کی اور 1857 میں مغلوں کی حکومت ختم ہو گئی اور انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا یہ وہ دور تھا جب یہاں کے مسلمانوں کی تاریخ کا تاریک دور شروع ہوتا ہے۔ تاہم مسلمانوں میں صوفیا کا دور اور وہ صدا بہار دور۔ یہ لوگ بادشاہوں کی طرح علاقوں پر حکومت نہیں کرتے تھے بلکہ یہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے اور دل میں رہنے والے ہی مورال اپ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید 25 ذیقعد 1261ہجری مطابق 25 نومبر 1845 بمقام چاچڑاں شریف پیدا ہوئے۔ خواجہ مذکور کی عمر جب سات سال ہوئی تو ان کے والد خدا بخش المعروف محبوب الٰہی کا وصال ہوگیا اس کے بعد ان کی تعلیم وتربیت ان کے بڑے بھائی خواجہ فخر جہاں نے کی۔ وہ بھی صوفی بزرگ تھے۔ خواجہ فرید نے اپنے وقت کے معروف علمائے کرام سے علم حاصل کیا اور روحانی تربیت کے لئے اپنے بھائی حضرت فخر جہاں کی بیعت کی۔ آپ کو کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی اور آپ نے سات زبانوں میں طبع آزمائی کی اور ہفت زبان شاعر کہلائے۔ ظاہر اور باطن کی تعلیم وتربیت کے بعد آپ نے انسان کی بات کی اور متعدد زبانوں میں بات کی تاکہ (اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی۔۔۔ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا) پھر آپ کا مسکن دیکھتے ہی دیکھتے مرجع خلائق بن گیا۔ آپ کی درگاہ میں روزانہ 12 من چاول اور آٹھ من گندم پکتی تھی اور ہر وقت کم و بیش 500 افراد آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ سارے لوگ آپ سے علمی اور روحانی لحاظ سے استفادہ کررہے تھے۔ یوں چراغ سے چراغ جل رہاتھا۔ درد جگر اور ظلم وقہر کے ستائے لوگ ان کے ہاں آتے، تازہ دم ہوتے اور کامیاب زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھ کر دوبارہ محو سفر ہوجاتے تھے۔ آپ سب کو ”حقوق” کا نہ صرف درس دیتے تھے بلکہ فلسفہ حقوقاں ان کے ہاں راسخ کردیتے تھے یوں ان کو نہ تو خلعت سلطانی مرعوب کرتی تھی اور نہ ہی شاہانہ حکمرانی ان کو خوفزدہ کرتی تھی۔ اگر کوئی خوفزدہ آکے کسی حاکم کے خلاف استغاثہ آپ کی بارگاہ میں دائر کرتا تو باقاعدہ اس حاکم کو ببانگ دہل یہ پیغام بھجوا دیا جاتا (زیر تھی زبر ناں ہو۔۔متاں پیش پوی) یہی وہ شان بے نیازی تھی جس کی بدولت شاہ بھی گدا بن کر ایسی خانقاہوں پر پیش ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔ دیگر صوفیا کی طرح خواجہ غلام فرید نے بھی معاشرہ کے ہر طبقہ کو متاثر کیا۔ لوکائی نے ان کی تعلیمات کا اثر قبول کیا اور ان کی بارگاہ میں نذرانے بھی پیش کئے۔ آپ کے ہاں فقرواستغنا کی یہ کیفیت تھی کہ آپ اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتے تھے اور سارے مال و اسباب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کردیتے تھے۔ یہ تھا بزرگان دین کا خانقاہی نظام جہاں علم و حکمت کی ترویج ہو رہی تھی۔ شعرو سخن پروان چڑھ رہے تھے۔ موسیقی کی سرپرستی ہو رہی تھی۔ شریعت و طریقت کا رنگ جا بجا دیکھا جاتا تھا۔ معاشی و معاشرتی اصلاحات کے تصور سے نہ صرف لوگوں کو آگاہ کیا جارہا تھا بلکہ ان اصلاحات کو عملی طور پر نافذ کرکے معاشرتی عدم توازن کو ختم کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جارہی تھی۔ کہانی سنائی نہیں جاتی تھی بلکہ زندگی کی کہانی کے کردار تیار کئے جاتے تھے اور پھر ان کرداروں کو باقاعدہ ریہرسل کے عمل سے گزار کر صاحب کردار بنا دیا جاتا تھا۔ یوں زندگی کی کہانی کا کلائمکس اور اسی کلائمکس کو مشاہدہ کرنے لوگ آج بھی جوق در جوق کوٹ مٹھن آتے ہیں اور صاحب مزار سے روحانی طور پر اور ان کی شاعری اور شاعری کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی موسیقی سے وجدانی طور پر فیضیاب ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر خواجہ صاحب کی روشن کی ہوئی علم کی شمع اور اس شمع کے پروانے۔ منظر دیدنی ہے۔ کور نظر ہونے کی صورت میں تو بس تنقید اور تنقید کے نتیجے میں بحث تمحیص اور بحث تمحیص کے نتیجے میں ذہنی انتشار۔ انتشار تو پھر انتشار ہوتا ہے اور بابوں نے اس انتشار کا مکمل خاتمہ کیا ہے اور پیار، محبت اور اخلاص کی لڑی میں ساری دنیا کو پرونے کی پوری کوشش کی ہے اور ماشااللہ اس کوشش میں وہ سو فیصد کامیاب ہوئے ہیں۔ اس بات کا کوٹ مٹھن شاہد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں