کھادوں،زرعی ادویات کی قیمت بڑھنے پر کاشتکار پریشان

کمالیہ(نامہ نگار)کمالیہ میں اس سال دھان کی فصل کی کاشت بھرپور طریقے سے جاری ہے اور اس وقت چالیس ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر دھان کی کاشت کی جارہی ہے ۔ کھیتوں میں کاشت کے عمل میں مرد کسانوں کے ساتھ خواتین بھی بھرپور حصہ لے رہی ہیں اور دن رات محنت کر کے زراعت کے اس اہم شعبے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس خطے کی زمین دھان کی پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہے اور کسان پوری محنت و جانفشانی سے کھیتوں میں کام کر رہے ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے ۔ کسانوں کے مطابق بجلی کے بلوں میں اضافے ، کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زرعی ادویات کی مہنگائی نے کاشت پر اخراجات کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب کٹائی کے بعد فصل فروخت کے لیے بازار میں پہنچتی ہے تو اس کی قیمت اتنی معقول نہیں ملتی جو ان کے اخراجات پورے کر سکے ۔ اس صورتحال میں کسان نہ صرف قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں بلکہ زراعت جیسا بنیادی اور اہم شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے ۔ اگر حکومت کسانوں کو کھاد، بیج اور بجلی پر سبسڈی فراہم کرے اور زرعی ادویات کی قیمتوں پر قابو پایا جائے تو کسان مزید بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں