کھانے کے ڈبے کے سامنے غذاء معلوماتی نشاندہی کی اہمیت

دنیا بھر میں صحت کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن میں ذیابیطس، بلڈ پریشر، موٹاپا اور دل کی بیماریاں سرفہرست ہیں۔جیسا کہ پاکستان اس وقت ذیابیطس میں اوّل نمبر پر ہے. ان امراض کی ایک بڑی وجہ غذائیت سے محروم اشیاء کا کثرت سے استعمال ہے۔ اس کی وجہ سے خوراک سے متعلق درست اور مکمل آگاہی کا حصول نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ عوام اپنے لیے صحت مند انتخاب کر سکیں۔ اسی ضرورت کے تحت کھانے کی اشیاء پر فوڈ لیبلنگ کا تصور وجود میں آیا ہے. خاص طور پر ان اشیاء کے اگلے حصے پر جہاں یہ فوری طور پر پہلی نظر پڑے. فوڈ لیبلنگ سے مراد وہ معلومات ہوتی ہیں جو کسی بھی پیک شدہ غذا پر درج کی جاتی ہیں تاکہ خریدار کو اس غذا کے اجزائ، اجزاء کی مقدار، ممکنہ الرجی پیدا کرنے والے اجزائ، استعمال کی ہدایات اور تاریخِ تنسیخ سے آگاہ کیا جا سکے۔ جب یہ لیبل اشیاء کے اگلے حصے پر چسپاں کیا جاتا ہے تو یہ فوری طور پر خریدار کی نظر میں آتا ہے اور فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں غذائی شعور کی کمی ہے وہاں خوراک کی اشیاء پر واضح، سادہ اور مؤثر لیبلنگ کی شدید ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ اکثر اشتہارات یا ظاہری پیکنگ کو دیکھ کر اشیاء خرید لیتے ہیں اس بات کو جانچے بغیر کہ آیا وہ چیز ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔ اگر اشیاء کے اگلے حصے پر آسان الفاظ میں معلومات درج ہوں تو یہ صارفین کو بہتر انتخاب کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔پاکستان میں غذائی شعور کی کمی کی ایک بڑی وجہ معاشرتی اور اقتصادی عوامل بھی ہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد کم قیمت اور جلد دستیاب اشیاء کو ترجیح دیتی ہے جبکہ صحت بخش خوراک اکثر مہنگی اور کم دستیاب ہوتی ہے۔ اگر فوڈ لیبلنگ کو لازمی قرار دیا جائے اور اس کے نفاذ کو سخت بنایا جائے تو عوام کو سستی اور صحت مند خوراک کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے قوانین کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ تمام غذائی اشیاء پر لیبلنگ کو مؤثر اور جامع بنایا جا سکے۔فوڈ لیبلنگ کے ذریعے ایک عام خریدار کو یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ خوراک میں کن اجزاء کا اضافہ یا کمی کرے تاکہ صحت مند زندگی گزار سکے۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے متوازن غذا بہت ضروری ہے اور اگر والدین خریداری کے وقت غذائی اشیاء پر درج معلومات کو مدنظر رکھیں تو وہ اپنے گھر کے افراد کی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایسے افراد جو مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، یا کولیسٹرول کے شکار ہیں وہ فوڈ لیبلنگ کی مدد سے اپنی خوراک کو بہتر طریقے سے منتخب کر سکتے ہیں۔2021 میں کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ غذائیت سے متعلق مخصوص انتباہی لوگوز، اور ”نیوٹریـسکور” سسٹمز جیسے لیبل صارفین کو زیادہ صحت بخش مصنوعات کے انتخاب کی طرف مائل کرتے ہیں اور کم صحت بخش مصنوعات کے انتخاب کا امکان کم کرتے ہیں۔فوڈ لیبلنگ کی اہمیت کا ایک اور پہلو عوامی صحت کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت سے بھی جڑا ہے۔ جب صارفین صحت بخش اشیاء کی جانب راغب ہوں گے تو فوڈ انڈسٹری صحت مند پیداوار کی جانب مائل ہوگی اور نتیجتاً معیاری اشیاء کی پیداوار بڑھے گی جس سے ملکی معیشت بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔ صحت مند معاشرہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور خوراک کی درست معلومات اس ترقی کے لیے ایک بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہیں۔تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ جب غذائی اشیاء پر توانائی، چکنائی، نمک، شکر اور دیگر اہم عناصر کی مقدار واضح درج ہوں اور وہ بھی اگلے حصے پر تو لوگ ان اشیاء کی خریداری میں زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ ایک آسان مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ اگر کسی پیک شدہ مشروب پر اگلے حصے پر ہی یہ درج ہو کہ اس میں شکر کی مقدار ایک گلاس میں روزانہ کی مناسب مقدار سے دو گنا ہے تو بیشتر افراد اس مشروب کو خریدنے سے پہلے دو بار سوچیں گے۔فوڈ لیبلنگ نہ صرف صحت کے مسائل سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ یہ اشیاء تیار کرنے والے اداروں کو بھی بہتر معیار اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب عوام لیبل کو پڑھنے اور اس کے مطابق خریداری کرنے لگتے ہیں تو فیکٹریوں اور کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا ہے کہ وہ صحت بخش اجزاء استعمال کریں تاکہ ان کی اشیاء مارکیٹ میں قابلِ قبول رہیں۔اس کے علاوہ اگلے حصے پر لیبلنگ ہونے سے ناخواندہ یا نیم خواندہ افراد بھی تصویری علامات یا رنگوں کی مدد سے کسی شے کی غذائیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں رنگوں کا نظام رائج ہے جس میں سبز رنگ صحت مند، زرد درمیانہ اور سرخ رنگ غیر صحت بخش اجزاء کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے نظام کو اپنانا عوامی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے کے لیے میڈیا، تعلیمی ادارے اور محکمہ صحت کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ لوگ نہ صرف لیبل کو پڑھنا سیکھیں بلکہ اس پر بھروسا بھی کریں۔ اس ضمن میں قانون سازی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے جو فوڈ انڈسٹری کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ تمام مصنوعات کے اگلے حصے پر واضح، درست اور معیاری لیبل لگائیں۔مختصر یہ کہ کھانے کی اشیاء کے اگلے حصے پر فوڈ لیبلنگ صرف ایک تحریری خانہ نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی کنجی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ تندرست، توانا اور باشعور ہو تو ہمیں یہ قدم بھرپور سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہر شخص اپنی خوراک کے بارے میں مکمل طور پر باخبر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں