ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ نوبل امن انعام حاصل کرنا ایک شدید متنازع معاملہ بن چکا ہے، جو نہ صرف سابق امریکی صدر کی سفارتی میراث پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ خود نوبل انعام کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ برطانوی بکی کمپنی لیڈ بروکس کے مطابق ٹرمپ کے انعام جیتنے کے امکانات تقریبا 9 فیصد بتائے گئے ہیں، جہاں ان کے ساتھ دیگر نمایاں امیدواروں میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی، اور پوپ فرانسس بھی شامل ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کی مشرقِ وسطی میں متنازع خارجہ پالیسی، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے معاملے پر ان کے کردار نے عالمی سطح پر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے، اور یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا ان کی پالیسیاں واقعی امن اور عالمی تعاون کے اصولوں کے مطابق تھیں یا نہیں۔ٹرمپ کی نامزدگی، جسے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حمایت حاصل ہے، بنیادی طور پر ابراہم معاہدوں پر مبنی ہے یہ وہ معاہدے ہیں جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان، اور مراکش نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ ان معاہدوں کو مشرقِ وسطی میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ایران کے خلاف ایک نیا اسٹریٹجک بلاک بنانے کی کوشش تھی، جبکہ فلسطینی تنازع کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ کو اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران ایک مختصر جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے، مگر درحقیقت اطلاعات کے مطابق انہوں نے امریکی فوج کو ایران پر براہِ راست فضائی حملوں کی اجازت دی، جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر کیے گئے، بلکہ درجنوں جانوں کے ضیاع کا باعث بنے۔پاکستانی حکومت پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے سفارتی دبا اور اقتصادی مراعات کے وعدوں کے تحت پس پردہ ٹرمپ کی نوبل انعام کی حمایت کی۔ یہ خبر سامنے آتے ہی پاکستان بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عوام نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں عوام نے اس فیصلے کو فلسطینی عوام کے ساتھ غداری قرار دیا، اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ سوشل میڈیا پر بھی #NotInOurName اور #TrumpNoPeace جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ جو شخص پاکستان پر پابندیاں لگا چکا ہے، اسے امن کے انعام کے لیے نامزد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔نوبل امن انعام ان افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا میں امن، بین الاقوامی تعاون، اور افواج کی تخفیف کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، جسے اکثر جارحانہ اور خود غرضی پر مبنی قرار دیا جاتا ہے، ان اصولوں سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف عالمی معاہد و ںجیسے پیرس ماحولیاتی معاہدہ، ایران جوہری معاہدہ (JCPOA)، اور عالمی ادار صحت (WHO)سے امریکہ کو نکالا، بلکہ مشرقِ وسطی میں ایسے فیصلے کیے جنہوں نے امن کے بجائے کشیدگی کو بڑھایا۔ ان کی انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا، فلسطینی امداد منقطع کر دی، اور ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اسرائیل کے ساتھ اتحاد کیا۔اگرچہ ٹرمپ اپنے ان اقدامات کو امن کے لیے حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں، مگر ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ ان کی کوششیں محض وقتی معاہدے تھے، جو اصل تنازعات کو حل کرنے کے بجائے نئی خلیجیں پیدا کر گئیں۔ ابراہیم معاہدے اگرچہ کچھ عرب ریاستوں کے لیے سفارتی کامیابی ہو سکتے ہیں، لیکن فلسطینیوں کو ان میں کوئی جگہ نہیں ملی۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں ان ریاستوں کو ہتھیاروں کی خریداری اور امریکی حمایت کی شکل میں فائدے ضرور پہنچے، مگر اصل مسئلہ جوں کا توں رہا۔اگر ٹرمپ کو نوبل انعام دے دیا گیا، تو وہ تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر، اور باراک اوباما کے بعد پانچویں امریکی صدر بن جائیں گے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہو گا۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات نہ تو نیلسن منڈیلا یا ملالہ یوسفزئی جیسے امن کے علمبرداروں سے موازنہ کیے جا سکتے ہیں، اور نہ ہی وہ اس انعام کی روح سے ہم آہنگ ہیں۔نوبل کمیٹی کے سامنے اس سال 300 سے زائد نامزدگیاں ہیں، مگر ٹرمپ کی نامزدگی ایک بڑا اخلاقی سوال بن چکی ہے۔ اگر انہیں یہ انعام دے دیا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ جائے گی، بلکہ نوبل انعام کی ساکھ اور غیر جانب داری پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نوبل کمیٹی امن کے معیار پر قائم رہتی ہے یا عالمی سیاست کے دبا میں آ کر کوئی متنازع فیصلہ کرتی ہے۔




