گندے اور نالیوں کے زہریلے پانی سے سبزیوں کی کاشت معمول بن گئی

ساہیوال (بیوروچیف) شہر اور ملحقہ علاقوں میں گندے اور نالیوں کے زہر یلے پانی سبزیوں کی کاشت ایک معمول بن چکی ہے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی اور عدم نے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے کر دیا ہے۔ زہریلی سبزیوں کی فراہمی اور اتھارٹی کی غفلت، عوام کو معیاری اور خوراک فراہمی کا دعویٰ کرنے والی فوڈ اتھارٹی مکمل طور نا کام دکھائی دے رہی ہے۔ شہر کے گردو نواح میں ڈرین اور گٹروں کے بدبودار پانی سے سبزیاں سیراب کی جا رہی ہیں، جو کہ موذی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق نالے کے پانی جبکہ سے کاشت کردہ سبزیاں ہیپا ٹائٹس، پیٹ کی مہلک بیماریوں، کینسر اور جلد کے امراض کا اہم سبب بن رہی ہیں۔ سبزی منڈیوں اور کھیتوں میں زہر یلے فوڈ پانی کے استعمال پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں صرف کاغذی کارروائیوں اور پر فوٹوسیشن تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام اور بالخصوص پنجاب فوڈ اتھارٹی اس سنگین مسئلے سے پوری طرح باخبر ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس سے ملاوٹ مافیا اور غیر قانونی کاشتکاروں کے حوصلے مزید بلند ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت کا فوری خاتمہ کیا جائے اور غفلت برتنے والے فوڈ اتھارٹی کے افسران کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں