گورنمنٹ ایلمنٹری سکول کے طلبا کی میچورٹی اور خود اعتمادی میں اساتذہ کا مثبت کردار

گورنمنٹ ایلمنٹری سکول طلبا ہمارے وطنِ عزیز کا ایک انمول سرمایہ ہیں، کیونکہ اس ایج گروپ میں زیادہ تر 12تا 15سال کے طلبا شامل ہوتے ہیں جن کی فکری اور ذہنی نشوونما کافی حد تک مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس عمر کے طلبا چونکہ قوت و توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں، لہذا ان کی تمام تر انرجی کو مثبت انداز میں بچوں کے حق میں استعمال کرنا ہی اساتذہ کرام کی تعلیم و تربیت کا نچوڑ ہے۔ابتدائی پرائمری تعلیم کے بعد بچوں میں اعتماد کے لیول کو برقرار رکھنا اور ان کے اندر مزید خود اعتمادی پیدا کرنا انتہائی ضروری امر ہے، تاکہ تعلیم و تربیت کے سلسلے میں بچوں کے ذاتی کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں اساتذہ کرام طلبا کے اندر درج ذیل صفات پیدا کر سکتے ہیں:بچوں میں اساتذہ کرام سے سوال کرنے کا اعتماد ہونا چاہیے۔ بچوں میں شرمیلے پن کی جگہ خود اعتمادی اور ادب کی جھلک نظر آئے۔بچوں میں خود سے مختلف منصوبوں پر عمل کرنے کی ہمت آئے۔ چونکہ اس لیول پر خود اعتمادی اور پختگی ایک بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے، جو بعد میں ایک مکمل عمارت استوار کرنے میں معاون ہوتی ہے، لہذا بچوں کو ان کے مختلف پراجیکٹس، منصوبوں اور معمول کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کرام کو بچوں پر دبا یا سختی کرنے کی بجائے پرشفقت ماحول اور دوستانہ انداز میں سکھانا چاہیے، جیسا کہ ایک والد یا والدہ اپنی اولاد کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔12 تا 15 سال کی عمر کے طلبا نفسیاتی، شعوری اور فکری طور پر خود کو ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں اور وہ بہت سے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس مرحلے پر اساتذہ کرام کو بچوں کی پختگی اور ان کے جذباتی رویوں کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے، تاکہ بچے علمی اور عملی مہارتیں بروقت اور بہترین انداز میں سیکھ سکیں۔اس مرحلے پر اساتذہ کرام پر ایک اور ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ بچوں میں ابھرنے والے منفی رویوں کو نظر انداز نہ کریں بلکہ منفی سرگرمیوں اور عادات کو مرحلہ وار اور مثبت انداز میں نہ صرف ختم کریں بلکہ انہیں مثبت رویوں میں ڈھالیں۔ایلمنٹری اسکول کے طلبا کے ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولز میں جانے سے قبل اگر ان کی منفی اور معاشرے کے خلاف عادات کو کنٹرول کیا جائے تو یقینا یہ طلبا، بالخصوص لڑکے، ہائی اسکولوں کا قیمتی سرمایہ بن کر ابھر سکتے ہیں۔ میٹرک چونکہ اعلی تعلیم کے لیے ایک اچھی بنیاد ہوتی ہے، لہذا تعلیم کے ساتھ کردار کی پختگی معاشرے میں مثبت سوچ والی نئی نسل متعارف کروا سکتی ہے۔اساتذہ کرام بچوں میں منفی رویوں کو کم کرنے کے لیے نہ صرف انہیں مختلف تعلیمی منصوبوں میں مصروف کریں بلکہ بچوں میں پہلے سے موجود روحانی پہلو کو بھی اجاگر کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ عمر کے اس مرحلے تک دینِ اسلام بھی نماز اور روزے کی پابندی سکھاتا ہے تاکہ بچوں میں صبر اور شکر کی صفات نمایاں ہو کر معاشرے کے حسن اور وقار میں اضافہ کریں۔اساتذہ کرام بچوں کو مفید شہری بنانے کے لیے ان میں ہمدردی، شکر، صبر، مشکلات سے مثبت انداز میں نبٹنے اور ہار جیت کو مثبت انداز میں قبول کرنے کی صلاحیت بھی اجاگر کریں۔ایلمنٹری طلبا کے اندر مثبت شعور اجاگر کرنا اور پھر اس عمل کی مسلسل نگرانی کرنا اساتذہ کرام کا قومی فریضہ ہے، کیونکہ ہم اساتذہ تعلیم و تربیت تو اچھے انداز میں کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن مسلسل نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے طلبا اچھی عادات سیکھنے کے باوجود چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ نہ صرف اچھی عادات چھوڑ دیتے ہیں بلکہ ان پڑھ معاشرے سے ملنے والے منفی اثرات کو اپنا لیتے ہیں، جن کے نتیجے میں مختلف نشہ جات، گالی گلوچ، بے ادبی اور دیگر برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں، اور آخرکار یہ بچے تعلیم بھی چھوڑ دیتے ہیں جس سے معاشرے میں ان پڑھ طبقے میں اضافہ ہوتا ہے۔اساتذہ کرام کو چاہیے کہ بچوں میں سیلف کو مثبت انداز میں نشوونما دیں تاکہ یہ طلبا اپنی سوچ، جذبات، خواہشات اور مختلف حالات میں ردِعمل کا اظہار بہترین انداز میں کر سکیں اور پختگی افکار و اظہار میں استحکام پیدا ہو سکے۔اکثر اس لیول کے طلبا کو چھوٹے بچے سمجھ کر صرف سبق یاد کروا کر امتحان لے لیے جاتے ہیں، جو ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ بچے اپنی توانائی کا اظہار بری عادات، آوارہ گردی اور بے ادبی میں کر کے قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔اس لیول کے طلبا کی نگرانی کے حوالے سے محکمہ تعلیم کے ذمہ دار افسران سے بھی اپیل ہے کہ وہ اسکولوں کے دوروں کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچوں میں مثبت تفکر، خود اعتمادی، اظہارِ رائے، تعلیمی منصوبہ جات میں عملی انداز اور تربیتی پہلوں کو ضرور چیک کریں، تاکہ یہ تمام پہلو طلبا کی شخصیت کا حصہ بن کر ایک باوقار قوم کی بنیاد کو مزید مضبوط کریں۔وزیرِ تعلیم سے بھی میری یہی گزارش ہے کہ ایلمنٹری اسکولوں کے طلبا، خاص طور پر بوائز کی تربیت کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی جائیں، تاکہ باادب اور باشعور طلبا ہائی اسکولز میں اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے کوشاں نظر آئیں۔ ایلمنٹری اسکولوں میں وقف تفریح، پراجیکٹس کے لیے الگ پیریڈز اور بچوں کی کینٹین کا خاص خیال رکھا جائے۔اساتذہ کرام کی ٹریننگ بھی اس حوالے سے ضرور کروائی جائے تاکہ وہ مستقبل کے نوجوانوں میں خود اعتمادی کو بہترین انداز میں فروغ دے سکیں۔اس تحریر کے ذریعے میں ان تمام خواتین اساتذہ کو سلام پیش کرتی ہوں جو بوائز اسکولوں میں نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہیں۔ جب وہ بچوں میں کوئی بگاڑ دیکھتی ہیں تو ماں کی طرح انہیں درست راہ پر لانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ دوا اثر نہ کرے تو نظر اتارتی ہیں، کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے، ہار کہاں مانتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں