گورنمنٹ گرلز ہائی سکول213گ ب میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چک نمبر 213 گ ب فیصل آباد کے اچانک معائنے کے دوران متعدد سنگین بے ضابطگیوں، ناقص انتظامی امور اور حاضری ریکارڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) فیصل آباد وسیم ساجد نے ہیڈ مسٹریس کو شوکاز طرز کا وضاحتی نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر پیش ہو کر جواب دینے کی ہدایت کردی ہے۔جاری کردہ نوٹس کے مطابق سکول کا معائنہ 24 اگست 2026 کو صبح تقریبا 8:30 بجے کیا گیا۔ معائنہ ٹیم کو ٹیچر حاضری رجسٹر تقریبا 30 منٹ بعد صبح 9 بجے فراہم کیا گیا، جبکہ ہیڈ ٹیچر مبینہ طور پر سکول کے دفتر کے بجائے ایمرجنسی ایگزٹ کے راستے سے سکول پہنچیں۔ معائنے کے وقت تدریسی عملے کی اکثریت، بشمول ہیڈ ٹیچر، تاخیر سے پہنچی ہوئی پائی گئی۔نوٹس میں سکول میں صفائی کی انتہائی ناقص صورتحال، 20 اور 21 اگست کو اوورال کنڈیشن کی مطلوبہ چیکنگ نہ ہونے، معائنے کے بعد ایک ٹیچر کا نام حاضری رجسٹر میں درج کیے جانے، ہیڈ ٹیچر کے مبینہ نامناسب رویے اور عملے کے تاخیر سے آنے والے ارکان کے نام ظاہر نہ کرنے جیسے معاملات بھی نشاندہی کیے گئے ہیں۔معائنے کے دوران 12 میں سے صرف 2 واش رومز فعال پائے گئے، جبکہ سکول میں بجلی بھی دستیاب نہیں تھی۔ نوٹس کے مطابق بجلی کا میٹر واپڈا حکام کی جانب سے طویل عرصے سے بجلی کے بل کی عدم ادائیگی کے باعث اتارا گیا تھا۔ مزید برآں سکول میں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں تھا اور ہیڈ ٹیچر کے دفتر سمیت تمام کلاس رومز میں بھاری مقدار میں گردوغبار موجود تھا۔ روزنامچہ (Roznamcha) اپ ڈیٹ نہیں تھا، تمام کلاسز کے حاضری رجسٹر معائنے کے وقت پیش نہیں کیے گئے اور سکول کا ٹیبلٹ بھی معائنے کے لیے فراہم نہیں کیا گیا۔نوٹس میں مسٹر اختر رسول (نائب قاصد) کے حوالے سے بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق انہیں حاضری رجسٹر میں اتفاقی رخصت (Casual Leave) پر ظاہر کیا گیا، جبکہ وہ مبینہ طور پر یکم جون 2024 سے ایکس پاکستان رخصت پر ہیں اور اس عرصے کے لیے متعلقہ حکام سے منظوری کا معاملہ بھی زیرِ سوال قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ انہیں یکم مئی 2026 سے 22 مئی 2026 تک حاضری رجسٹر میں حاضر ظاہر کیا گیا، جبکہ جون اور جولائی 2026 کے دوران ان کی کوئی حاضری درج نہیں تھی۔ڈی ای او سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد وسیم ساجد نے مذکورہ تمام معاملات کو سنگین غفلت، ناقص انتظامی کنٹرول، مس کنڈکٹ، سرکاری ریکارڈ برقرار رکھنے میں ناکامی، حاضری میں بے ضابطگیوں اور محکمانہ ہدایات کی عدم تعمیل قرار دیتے ہوئے ہیڈ مسٹریس کو ہدایت کی ہے کہ وہ 31 اگست 2026 کو دوپہر 2 بجے ذاتی طور پر پیش ہو کر ہر نکتے پر واضح اور دستاویزی ثبوت کے ساتھ وضاحت پیش کریں۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ اور وقت پر پیش نہ ہوئیں یا تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کی گئی تو متعلقہ قواعد کے تحت مزید نوٹس کے بغیر محکمانہ کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں