2024ء ہم سے رخصت ہو چکا’ اب 2025ء ہے، اﷲ کرے یہ سال ہمارے لئے خیروبرکت کا باعث ثابت ہو، اگرچہ گزشتہ برس ہمیں خوشی کے مواقع بھی میسر آئے مگر کئی حالات وواقعات نے ہر خاص وعام کو تڑپا کر رکھ دیا، 2024ء کے دوران ضلع فیصل آباد میں 39690 حادثات کے دوران 6849 افراد جان کی بازی ہار گئے، 33754 ٹریفک حادثات’ آگ لگنے کے 2065′ فائرنگ’ خودکشی’ اقدام خودکشی’ لڑائی جھگڑے کے 3583 واقعات’ ڈوبنے کے 111′ سلنڈر پھٹنے کے 8′ جبکہ 105877 میڈیکل ایمرجنسی اور 11757 متفرق واقعات رونما ہوئے، اس دوران مرنے والے 6849 افراد کے لواحقین پر جو قیامت صغریٰ بیتی اسے الفاظ کے قالب میں نہیں ڈھالا جا سکتا، اپنے کسی پیارے کی کسی حادثے میں اچانک موت وہ صدمہ ہوتا ہے جو بھلائے نہیں بھولتا، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انسان اس دنیا میں شاندار زندگی گزارنے کیلئے ہر جتن کرتا ہے اور یہی خواہش انسان کو مال وزر کے لالچ میں مبتلا کر دیتی ہے مگر جب اس کا کوئی پیارا کسی حادثہ کا شکار ہو یا وہ خود کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ اس دنیا میں دولت ہی سب کچھ نہیں ہے اور ہمیں اﷲ تعالیٰ سے خیروبرکت کی دعا کرتے رہنا چاہیے، محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، آپ کو اﷲ تعالیٰ نے معصوم پیدا فرمایا، نہ آپ کو شیطان بہکا سکتا تھا اور نہ ہی دنیا کی کسی چیز کا خوف، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اُمت کو سکھایا کہ اس طرح اﷲ تعالیٰ سے پناہ مانگیں، ہمیں دُعا مانگنی چاہیے کہ اے اﷲ ہم ہر اس چیز سے پناہ مانگتے ہیں جس سے تیرے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ مانگی، زندگی کے ہر موڑ پر اﷲ تعالیٰ اور رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات واحکامات کو مدنظر رکھنا چاہیے، آپۖ نے قرض، بے بسی’ برے خاتمے’ بزدلی’ کنجوسی’ غم’ مالداری کے شر’ زیادہ بڑھاپے کی عمر’ قبر کی آزمائش’ محتاجی کی آزمائش’ دجال کے فتنے سے’ زندگی اور موت کے فتنے سے’ نعمت کے زائل ہونے سے، اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کے تمام کاموں سے’ عافیت کے پلٹ جانے سے’ ظلم کرنے اور ظلم ہونے سے’ آزمائش کی مشقت سے’ بری بیماریوں سے’ زبان اور دل کے شر سے’ بدبختی لاحق ہونے سے’ اونچی جگہ سے گرنے’ کسی چیز کے نیچے آنے’ دشمن کے غلبہ سے’ نفاق سے’ کفر سے’ موت کے وقت شیطان کے بہکاوے سے پناہ مانگی’ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا یہ دعائیں مانگنا ہمیں دعوت عمل دے رہا ہے کہ ہم بھی ہر اس چیز سے پناہ مانگیں جس سے حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ مانگی’ بے شک! اﷲ تعالیٰ کی ہم پر بے شمار عنایات اور نعمتیں ہیں، جب یہ عنایات اور نعمتیں چھن جاتی ہیں تو انسان کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے احساس سے ہی ہم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خوف خدا کریں، اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کا ہر دم شکر ادا کرنا چاہیے، ذکر الٰہی اور شکر الٰہی کرنا بھی اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے کہ ”تم مجھ کو یاد کرو میں بھی تم کو یاد کروں گا، میرا شکر ادا کرو، ناشکری نہ کرو، ذکر کی فضیلت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ ذکر کرنیوالے کو اﷲ تعالیٰ بھی یاد کرے گا، ذکر الٰہی کرنا مومن کا وصف امتیازی ہے، بہ کثرت اﷲ کا ذکر کرو بہت ممکن ہے فلاح نصیب ہو جائے، دنیاوی مال ودولت جب کسی کام نہ آئیں تو ذکر اور شکر جیسی نعمتیں وہاں بھی کام آتی ہیں، حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہم کون سے مال جمع کریں، جس پر محبوب خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل” اس حدیث پاک سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم ذکر الٰہی اور شکر گزاری کو اپنی عادت بنا لیں، ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہمیں سب کچھ’ ہمیں ہماری صلاحیتوں کے باعث ملا؟، تو یہ راز کھلتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں، بہت سے باصلاحیت لوگ ہم سے بہتر عقل وفکر اور فہم وفراست کے حامل ہیں اور ان نعمتوں سے محروم ہیں، اگر یہ سب خدائی تقسیم ہے تو پھر اس ذات باری کا شکر ادا کیوں نہ کیا جائے جس نے یہ سب نعمتیں ہمیں عطاء کی ہیں، ذرا سوچئے! 2024ء کے دوران ضلع فیصل آباد میں 36690 حادثات کے دوران 6849 افراد جان کی بازی ہار گئے’ اگر اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ان حادثات سے بچایا اور صحت وتندرستی والی زندگی سے سرفراز فرمایا ہے، ہم اپنی ٹانگوں پر چل رہے ہیں، پیٹ بھر کے کھانا کھا رہے ہیں اور ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں تو یہ اﷲ تعالیٰ کی عطاء ہے اور ہمیں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے، بلاشبہ! زبان سے شکر ادا کرنا بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے مگر اصل شکر جو اﷲ کے ہاں مقبول اور معتبر ہے وہ یہ ہے کہ اس کی مخلوق کو ان نعمتوں میں شریک کریں جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی ہیں اور دوسروں کو اس سے محروم کر رکھا ہے، اﷲ تعالیٰ بڑا رحیم وکریم ہے، اس کا وعدہ ہے کہ تم شکر گزاری کرو وہ تم پر نعمتیں نچھاور کرے گا اور تمہارے مال’ جان’ عزت اور مال ومتاع میں برکت ڈالے گا، ذکر الٰہی کی طرح درود شریف کے بھی بڑے فضائل ہیں، محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ومقدس ذات پر درود شریف بھیجنا بہت بڑی نعمت اور خوش قسمتی کی بات ہے، اﷲ تعالیٰ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے درود وسلام پڑھنے والوں کو عزت’ بخشش’ وسعت رزاق’ گھر میں برکت’ درجات کی بلندی’ حاجت روائی اور دیگر بے شمار فضائل وبرکات کی بشارتیں دی ہیں۔ اﷲ کرے ہم قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور ہمیں اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں’ خیر اور برکتیں ملتی رہیں۔ 2024ء بیت چکا ہے، انشاء اﷲ 2025ء میں خوشیاں ہمارا مقدر بنیں گی، دُعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ہم سب کو زندگی کے ہر لمحے اپنے حفظ وامان میں رکھے۔




