لاہور (بیوروچیف) سیف سٹی کے ”میرا پیارا” پراجیکٹ نے ایک اور بچھڑے ہوئے خاندان کو ملانے میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے تفصیلات کے مطابق8سال کی عمر میں بنگلہ دیش سے بچھڑنے والی خاتون کوہ نور کے اہلِ خانہ کو تلاش کر لیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر کوہ نور کو اغوا کر کے پاکستان لایا گیا تھا اور وہ تقریبا 4 دہائیوں سے اپنے اہلِ خانہ سے جدا دیپالپور میں مقیم ہیں۔کوہ نور نے اپنے اہلِ خانہ کی تلاش کے لیے سیف سٹی “میرا پیارا” ٹیم سے رابطہ کیا۔ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کوہ نور کی تفصیلات اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دبئی میں مقیم ایک شہری نے سیف سٹی سے رابطہ کیا اور بنگلہ دیش میں موجود کوہ نور کے اہلِ خانہ کی نشاندہی کی۔ شہری نے اہلِ خانہ کی معلومات، رابطہ نمبر اور شناختی دستاویزات بھی فراہم کیں۔سیف سٹی ٹیم نے بنگلہ دیش میں اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے تمام معلومات کی تصدیق کی۔ بعد ازاں ٹیم کوہ نور کے گھر پہنچی اور بنگلہ دیش میں موجود ان کے اہلِ خانہ سے ویڈیو کال پر رابطہ کروایا۔40 سال بعد اپنے پیاروں کو ویڈیو کال پر دیکھ کر کوہ نور جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور خوشی سے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اہلِ خانہ نے بھی کوہ نور سے ملاقات اور انہیں جلد بنگلہ دیش واپس لانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان سیف سٹی کے مطابق تصدیقی اور قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد کوہ نور کی بنگلہ دیش واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ 40 سال بعد کوہ نور کے اہلِ خانہ کا سراغ ملنا انسانی خدمت کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔




