ایک اور غلط حکومتی فیصلہ

وطن عزیز میں بجلی بحران نے لوگوں کو دن میں تارے دِکھا دئیے’کبھی طویل لوڈ شیڈنگ سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر اور کبھی بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنائے رکھیں’مہنگی بجلی سے پیداواری لاگت میں ہونیوالے اضافے نے بھی نت نئے مسائل کو جنم دیا’الغرض بجلی بحران نے گذشتہ کئی سالوں سے لوگوں کا ناک میں دم کئے رکھا’ آج بھی بجلی کے بھاری بل عوام کیلئے وبال جان بنے ہوئے ہیں’بجلی کی روز بروز بڑھتی قیمتوں اور اوپر سے آسمان کو چھوتی مہنگائی نے ہر خاص و عام کو پریشان کررکھا ہے ‘مہنگائی کا جن دن بدن بے قابو ہوتا جارہا ہے اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ بھی کاروباری طبقے کیلئے شدید مشکلات پیدا کررہا ہے اس صورتحال میں فیصل آباد کی مارکیٹوں اور بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں’دیگر شہروں میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے ۔قبل ازیں رمضان المبارک کی آمد سے قبل لوگوں کی بڑی تعداد خریداری کیلئے بازاروں کا رُخ کرتی تھی مگر امسال وہاں پر سناٹوں کا راج دکھائی دے رہا ہے۔یہ حالات حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں مگر وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پور ی نہیں کر سکے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ بجلی کی قیمتوں میںاضافے سے باز رہتی بلکہ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاتی تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا مگر ایسا نہ ہوسکا’اس صورتحال میں لوگ سولر سسٹم پر انحصار کرتے ہوئے مہنگی بجلی سے چھٹکارہ حاصل کررہے ہیں تو حکمرانوں کو اِن کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ‘سولر نیٹ میٹرنگ کیلئے لوگ سولر پلیٹیں اپنی چھتوں پر لگاتے ہیں ان کا دھیان رکھنا ان کا کام ہے سولر نیٹ میٹرنگ میں خرابیوں کو درست کروانا اور مرمت وغیرہ کے کام بھی ان کی ذمہ داری ہے’لوگوں کے سولرنیٹ میٹرنگ پر انحصار کرنے سے بجلی بحران کے حل میں بڑی مدد ملی مگر اسے کیا کہیے کہ حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ بجلی صارفین کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کے لیے مشکلات پیدا کرنا شروع کر دیا ہے، فیڈرل ٹیکس محتسب(ایف ٹی او) نے 9.8ارب روپے کے بڑے مالی نقصان کا انکشاف کرتے ہوئے ملک بھر میں سولر نیٹ میٹرنگ بجلی صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ایف ٹی او نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے فیلڈ دفاتر کو اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کی ہے۔فیڈرل ٹیکس محتسب کے مطابق، ڈسکوز کی جانب سے کی جانے والی قابلِ ٹیکس سپلائی پر 18فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اور سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت نیٹ میٹرنگ (یعنی صارفین کی فراہم کردہ بجلی کو ڈسکوز کی فراہم کردہ بجلی سے منہا کرنے) کا کوئی تصور نہیں ہے۔ایف ٹی او نے واضح کیا کہ ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق سیلز ٹیکس سپلائی کی مجموعی مالیت پر وصول کیا جائے گا، نہ کہ نیٹ آف ویلیو پر۔ اس لیے تمام ڈسکوز کو صارفین کو فراہم کردہ بجلی کی مجموعی قیمت پر سیلز ٹیکس وصول کرنا ہوگا، اور نیٹ میٹرنگ کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔اسی اصول کا اطلاق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن 235کے تحت ودہولڈنگ انکم ٹیکس پر بھی ہوگا، جو نیٹ میٹرنگ کے اثرات سے قطع نظر بجلی کی مجموعی قیمت پر لاگو ہوگا۔ایف ٹی او کے فیصلے میں کہا گیا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بجلی کے نرخوں کے تعین کی مجاز اتھارٹی ہے، مگر اسے سیلز ٹیکس یا انکم ٹیکس لاگو کرنے کا اختیار نہیں۔ اس لیے نیپرا یا متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ (اے ای ڈی بی) کی جانب سے جاری کوئی بھی ایس آر او یا ہدایات، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990یا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001پر فوقیت نہیں رکھتیں، کیونکہ یہ مالیاتی قوانین ہیں اور ان کا عمومی قوانین پر بالادستی کا اصول سپریم کورٹ آف پاکستان طے کر چکی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایف بی آر کی ہدایات تمام ٹیکس حکام کے لیے لازم ہیں اور وہ ٹیکس آرڈیننس/ایکٹ کے تحت ایف بی آر کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ایف ٹی او نے نشاندہی کی کہ کے الیکٹرک قانونی طریقہ کار کے مطابق صارفین سے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس وصول کر رہا ہے، جبکہ دیگر گیارہ ڈسکوز اس اصول پر عمل نہیں کر رہیں، جس سے صارفین پر غیر مساوی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔یہ شکایت فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000کے سیکشن 10(1)کے تحت دائر کی گئی تھی، جس میں نیپرا کے 2015کے ایس آر او اور اے ای ڈی بی کی نیٹ میٹرنگ ریفرنس گائیڈ کے برخلاف بجلی صارفین پر بلا جواز مالی بوجھ ڈالنے اور امتیازی سلوک کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس اقدام کو غلط حکومتی فیصلہ کیا جائے تو بیجا نہ ہو گا، سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی پر انحصار لوگوں کی مجبوری بن چکا ہے کیونکہ وہ مہنگی بجلی کے بھاری بل ادا کرنے سے قاصر ہیں، حکومت نے لوگوں پر بار بار بجلی بم گرانا معمول بنایا تو اس کے لئے کئی ”جواز” تراشے گئے، ان حالات میں لوگ اکتا گئے اور ان میں سولر پلیٹس خریدنے کا رجحان بڑھا تو حکمرانوں کو خوش ہونا چاہیے تھا اور سولر نیٹ میٹرنگ پر انحصار کے لیے لوگوں کو راغب کرنا چاہیے تھا مگر اس کے برعکس ملک بھر میں سولر نیٹ میٹرنگ بجلی صارفین سے 18فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کا حکم جاری کرنا حیران کن ہے، اس غلط حکومتی فیصلے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا’ یہ بات خوش آئند ہے کہ عام لوگ سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے مہنگی بجلی سے جان چھڑانے لگے ہیں، بلکہ سولر نیٹ میٹرنگ بجلی صارفین میں انڈسٹری مالکان بھی شامل ہونے لگے ہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی حاصل کرنے والوں کیلئے مشکلات پیدا کرنیکی بجائے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے، یقینی طور پر اس اقدام سے عام لوگوں کی مشکلات میں کمی ہو گی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں