بھارت افغان گٹھ جوڑ خطے کیلئے خطرہ

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد طورخم بارڈر بند’ امپورٹ وایکسپورٹ تعطل کا شکار طورخم سے افغانستان جانے والی گاڑیوں کو واپس لنڈی کوتل بھیج دیا گیا گزشتہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب رات کے پہلے پہر افغانستان کے بارڈر فورسز نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے ردّعمل میں پاک فوج نے جوابی کارروائی شروع کی جس میں پاک فوج کو اہم کامیابیاں ملیں سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران 200 سے زائد بھارتی حمایت یافتہ خوراج انجام کو پہنچ گئے طالبان کی پوسٹوں’ کیمپوں’ ہیڈ کوارٹرز اور دہشت گردوں کے سپورٹ نیٹ ورکس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا، اس وقت افغانستان میں قائم طالبان کی عبوری حکومت اور وہاں موجود دہشت گرد گروہ اور تنظیمیں بھارت کے اشاروں پر چلتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کارروائیاں کر رہی ہیں افواج پاکستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر طالبان حکومت خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی تو پاکستان کے عوام اور ریاست اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک افغانستان سے دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،، ایک طرف طالبان کی حکومت پاکستان کو بار بار یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی اور دوسری طرف وہاں کالعدم ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جب اور جیسے چاہیں کارروائیاں کریں اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہ ہی نہیں بلکہ افغان حکومت بھی بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہے، پاکستان نے افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے اور اب ان دہشتگردوں اور گروہوں کی خیر نہیں جو پاکستان کے خلاف افغانستان سے آ کر دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ طالبان حکومت کا گٹھ جوڑ درحقیقت بھارت کی سازش ہے کیونکہ اس کو معرکہ حق میں ہماری فورسز نے جو عبرتناک شکست دی اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور وہ افغان طالبان کو استعمال کر کے اپنے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی مدد سے پاکستان میں افراتفری پھیلانے کیلئے کوشاں ہے اس سلسلے میں بھارت نے وسائل کا رخ بھی طالبان حکومت کی جانب موڑ دیا ہے جبکہ بھارت نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت سے بھارت کا گٹھ جوڑ محض پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد بھارت نے اپنا سفار خانہ بند کر دیا تھا اب اچانک اس نے سفارت خانہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے،’ پاکستان نے افغانستان میں جو کاروائی کی ہے وہ ان دہشت گردوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہے جو پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں پاک فوج اور دیگر ادارے حددفاع کی پاسداری کرتے ہوئے محتاط انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ غیر متعلقہ افراد کو نقصان نہ پہنچے اور ساتھ ساتھ مستقبل میں بھی کسی بھی بیرونی جارحیت سے ملک کو نقصان پہنچے اور پاک فوج کے سخت ردعمل کے تناظر میں پاکستانی حکام کے مطابق اس کشمکش کو پاکستان اور افغانستان کی عوام کے درمیان جنگ قرار نہیں دیا جانا چاہیے سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات دراصل افغان عبوری حکومت’ بعض عسکری گروہوں (جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج جیسی تنظیمیں شامل ہیں) اور ان کی حمایت کرنیوالے حلقوں کی طرف سے مسلط کئے گئے ہیں جن کے پیچھے بعض حلقوں نے بیرونی اثرونفوذ بشمول بھارت کا نام بھی لیا ہے ایسی صورت میں افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں’ تنظیموں کیخلاف مؤثر کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں