پہلی بین الاقوامی کانفرنس عالمی غذائی تحفظ شروع

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیراہتمام پہلی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان پائیدار اقدامات برائے عالمی غذائی تحفظ جناح آڈیٹوریم میں شروع ہوگئی۔ یہ تین روزہ کانفرنس پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ثمین چیف آرگنائزر کی قیادت میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ساٹھ ممتاز قومی و بین الاقوامی ماہرین غذائیات اور ماہرینِ تعلیم کے علاوہ تقریبا چھ سو سے زائد شرکا شرکت کر رہے ہیں۔چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے بطور مہمانِ خصوصی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانفرنس کا موضوع وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، لہذا ضروری ہے کہ ہم کسانوں کو بااختیار بنائیں، نامیاتی خوراک کے نظام کو فروغ دیں اور خوراک کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں تاکہ قومی سطح پر غذائی خود کفالت حاصل ہو۔وائس چانسلر جی سی وی ڈبلیو یو ایف پروفیسر ڈاکٹر کنول امین (تمغہ امتیاز)، جو کانفرنس کی سرپرستِ اعلی ہیں، نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ کانفرنسیں صرف تحقیقی مقالوں تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ یہ پائیدار حل کی جانب عملی روابط اور شراکت داریوں کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے خوراک کے ضیاع میں کمی، کسانوں پر اعتماد کی بحالی، اور صحت مند و نامیاتی طرزِ زندگی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی، جبکہ PFDA، IFANCA، PANAH اور امریکہ، فرانس، مصر، چین، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سویڈن کی جامعات کے ماہرین نے غذائی قلت کے خاتمے اور فوڈ سیفٹی کے فروغ کے لیے اختراعات، ضابطہ سازی اور قدر میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں