نپولین بونا پارٹ کی فوج کی ہلاکت،2جرثومے بے نقاب

لیتھوینیا(مانیٹرنگ ڈیسک ) نپولین کی فوج کی تباہی کا سبب بنے والے جراثیم بے نقاب ،یورپی ملک لیتھوینیا میں ڈی این اے پر ہونے والی ایک نئی تحقیق نے نپولین بوناپارٹ کی فوج میں ہلاکت خیز بیماریوں کا سبب بننے والے 2 جرثومے بے نقاب ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق 1812 میں نپولین بوناپارٹ اور فرانسیسی فوج گرانڈ آرمی کی روس سے واپسی ایک تباہ کن واقعہ تھا جس نے اس کی سلطنت اور یورپ میں اس کی ذاتی بالادستی کے خاتمے کی ابتدا کی، اس دوران تقریبا 5 لاکھ سپاہیوں پر مشتمل فوج میں سے لگ بھگ 3 لاکھ ہلاک ہوگئے تھے۔لیتھوینیا کے دارالحکومت ویلنیئس میں واقع اجتماعی قبر میں مدفون 13 فرانسیسی فوجیوں کے دانتوں سے حاصل کردہ ڈی این اے پر مبنی ایک نئی تحقیق نے نپولین کی فوج گرانڈ آرمی کی بدحالی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی ہے، اس تحقیق میں 2 ایسے جراثیم دریافت ہوئے ہیں جو اس تاریخی واقعے سے پہلے کبھی درج نہیں کیے گئے تھے۔ان میں وہ جراثیم شامل ہیں جو پیراٹائفائیڈ بخار اور جوں سے پھیلنے والے ریلیپسنگ فیور (بار بار آنے والا بخار)کا سبب بنتے ہیں، یہ دریافت، سابقہ تحقیق کے ساتھ مل کر ظاہر کرتی ہے کہ سردی، بھوک اور تھکن سے نڈھال فوجیوں میں متعدد بیماریاں پھیلی ہوئی تھیں۔2001 میں دریافت ہونے والی ویلنیئس کی اس جگہ پر نپولین کی فوج کے تقریبا 2 سے 3 ہزار سپاہیوں کی باقیات موجود ہیں۔تحقیق کے مرکزی مصنف پیرس کے انسٹی ٹیوٹ پاسچر کے ماہرِ حیاتیات اور جینیات نیکولس راسکووان نے کہا کہ ویلنیئس 1812 کی واپسی کے راستے میں ایک اہم مقام تھا، بہت سے سپاہی یہاں تھکے، بھوکے اور بیمار حالت میں پہنچے، بڑی تعداد میں وہیں مر گئے اور انہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں