٭کانفرنس میں سیدالاحرار امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمدجالندھری اور دیگر کابرین کی تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے تحریکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا
۔٭چناب نگر سے لے کر چنیوٹ تک سڑک کے کنارے شرکا کے قافلوں کی بڑی گاڑیاں نظر آ رہی تھیں، چنیوٹ اور چناب نگر کے مضافاتی علاقوں سے لوگ موٹرسائیکل ریلیوں کے ذریعے کانفرنس میں شریک ہوئے۔
٭۔۔۔پنڈ ال کے قریب بنوری پارک میں جمع المبارک کاخطبہ اور نماز کی امامت کے فرائض خانقاہ سراجیہ کندیا ں کے سجادہ نشین مولانا خواجہ خلیل احمد نے سرانجام دیے۔
٭ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کو ختم نبوت زندہ باد کے نعروں کی گونج میں اسٹیج پر لایا گیا۔شرکا نے کھڑے ہوکر استقبال کیا۔
٭ 25 / اکتوبر کی صبح کوجامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑپکا کے شیخ الحدیث مولانامنیر احمد منورنے منفرد اور ممتاز انداز میں درس قرآن ارشاد فرمایا جو کہ سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سماعت کیا۔
٭ سیکورٹی پلان کے انچارج دارالقرآن فیصل آباد کے حضرت مولانا غلام فرید،قاری عزیزالرحمن رحیمی اوررضاکاران ختم نبوت مانسہرہ تھے جو احسن انداز میں اپنے مفوضہ امور سرانجام دیتے رہے۔
٭ کانفرنس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت کے علاوہ عقیدہ توحید، عظمت صحابہ، اہل بیت اور حیات عیسی علیہ السلام، سیدنا مہدی علیہ الرضوان، اصلاح معاشرہ اور استحکام پاکستان کے موضوعات پر بھی خطابات ہوتے رہے۔ بعض مقررین فتنہ قادیانیت کی موجودہ صورت حال اور مظلوم فلسطینی بھائیوں اظہار ہمدردی کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے رہے۔
٭کانفرنس میں شہدائے فلسطین کے لیے بلندی درجات کی دعائیں بھی جاری رہیں، فلسطین زندہ باد اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی پنڈال میں گونجتے رہے۔
٭ کانفرنس کی کوریج کے لئے میڈیا سیل سے مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمدعرفان بزیزی اور مولانا عبدالنعیم رحمانی نے اپنے رفقا سمیت مفوضہ امور سر انجام دیئے۔
٭کانفرنس کی مکمل کاروائی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی نشر ہوتی رہی۔ہزاروں کی تعداد اندرون وبیرون ملک سے کانفرنس کی لائیو کوریج سے سماعت کرتے رہے۔
٭ماہنامہ لولاک ملتان اور ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے سالانہ خریدار بننے کے لئے شرکا کانفرنس قائم کردہ دفتر میں سالانہ رقوم جمع کرواتے رہے۔
٭ معروف شاعروں اور نعت خوانوں کی طرف سے دربار رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کرنے پر سامعین کیف و سرور کی حالت میں جھومتے رہے اور شان رسالت زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے۔
٭ کانفرنس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حوالہ سے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور امتناع قادیانیت ایکٹ کے نفاذ کے حوالہ سے صدر ضیا الحق مرحوم کا تذکرہ خیر بھی ہوتا رہا۔
٭شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ضعیف العمری کے باوجود بھی تحریک خم نبوت کی تازہ ترین صورت حال پر پرجوش اور بصیرت افروز خطاب فرمایا جو کہ لوگوں نے ہمہ تن گوش ہوکر سنا۔




