کراچی ( بیو رو چیف )خون ہمارے جسم میں سپر ہائی وے کی طرح کام کرتا ہے۔خون کے ذریعے اہم غذائی اجزا اور آکسیجن سمیت سب کچھ دل اور دماغ سے مسلز اورجلد تک پہنچتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اچھی صحت کے لیے خون کا درست بہا بہت ضروری ہوتا ہے۔ہمارے جسم کے اندر 60ہزار میل تک خون کی شریانوں کا نظام پھیلا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر حصے تک خون پہنچتا ہے۔اگر شریانوں کو نقصان پہنچا ہو یا کسی بیماری کا سامنا کر رہی ہوں تو جسمانی ٹشوز اور اعضا تک خون کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے، آکسیجن کی سطح اور غذائی اجزا کی فراہمی میں بھی کمی آتی ہے۔ایسا ہونے پر متعدد علامات سامنے آتی ہیں جن کو آپ درج ذیل میں جان سکتے ہیں۔خون کی گردش میں مسائل پر جسمانی سرگرمیوں کے باعث پنڈلیوں کے مسلز اکڑنے سے تکلیف ہوسکتی ہے ایسا کولہوں یا رانوں میں بھی ہوتا ہے مگر کچھ آرام کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ایسا ٹشوز تک آکسیجن اور غذائی اجزا کی فراہمی میں کمی کے باعث ہوتا ہے۔ہاتھوں اور پیروں تک خون کی فراہمی میں کمی سے ان میں کمزوری اور سن ہونے کا احساس اکثر ہوتا ہے۔جب خون کی ناقص گردش گردوں کے افعال میں مداخلت کرتی ہے تو اس سے پیروں میں غیرمعمولی سوجن بھی نمودار ہوسکتی ہے۔جب جسم میں خون کی روانی محدود ہو جاتی ہے تو جسم کو توانائی کی سطح اور جسمانی درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے ایندھن نہیں ملتا۔اس سے تھکاوٹ، سستی اور معمول سے زیادہ ٹھنڈ جیسی کیفیات کا سامنا ہوتا ہے۔کئی بارہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔دماغ اپنے افعال کو درست طریقے سے سرانجام دینے کے لیے خون پر انحصار کرتا ہے تو اگر خون کی فراہمی گھٹ جائے تو اس کے لیے توجہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔




