ائمہ کو حقیر سمجھ کر تنخواہ دینا انکی توہین کے مترادف ہے،علماء کرام

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جمعیت علما اسلام اور وفاق المدارس ضلع فیصل آباد کی جانب سے فیصل آباد پریس کلب میں ائمہ مساجد اور تعلیمی مدارس کے لیے حکومت پنجاب کے اعلان کردہ مالی پیکج کے خلاف مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس میں جضرت مولانا مفتی محمد طیب صاحب ، رکن مجلس عاملہ و غازان وفاق المدارس العربیہ پاکستان,حضرت مولانا قاری عزیز الرحمن رحیمی معاون ناظم وفاق المدا ر س پنجاب میاں محمد عرفان امیر جمعیت علما اسلام ضلع مولانا شاہد معاویہ جنرل سیکرٹری جمعی علما اسلام ضلع فیصل آبادملتی حامد صدیق سینیٹر ضلعی نائب امیر جمعیتہ علما اسلام ضلع قاری طاہر اپنی جنرل سیکرٹری دمبر انتظامی کمیٹی جمعیت علما اسلام ضلع ,مفتی عبد الشکور رضوی صدر جے یوپی ضلع ڈاکٹر طاہر مصدق صدر جمعیت اہل حدیث ضلع فیصل آبادمولانا الہم اعوان مرکزی جنرل سیکریٹری راہ حق پارٹی حضرت مولانا عثمان تقی اپنی سیکرٹری جنرل سنی علما کونسل سٹی سید حبیب احمد شاد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور مذہبی رہنماں نے شرکت کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے 25 ہزار روپے ماہانہ کے نام پر دی جانے والی امداد دراصل ائمہ مساجد کو خریدنے اور ان کی آزادی رائے کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ اور حافظِ قرآن کو “ان پڑھ” سمجھنے یا پیش کرنے کا رویہ قابلِ مذمت ہے۔ دینی مدارس ہمیشہ علم و کردار کے قلعے رہے ہیں اور 1860 کے ایکٹ کے تحت تمام تعلیمی مدارس کی رجسٹریشن ضروری قرار دی گئی ہے۔ مقررین کے مطابق سال 2025 میں صوبے بھر میں تقریبا 27 ہزار حفاظِ قرآن تیار ہوئے، جو حکومتی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لہذا مدارس کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔علمائے کرام نے کہا کہ اگر حکومت واقعی ائمہ اور مدارس کے ساتھ مخلص ہے تو انہیں چند ہزار روپے کی امداد دینے کے بجائے بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی بلز میں ریلیف فراہم کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو قانونی دائرے میں مضبوط کرے اور اس حوالے سے متعلقہ بل صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیتِ علما اسلام اور وفاق المدارس تشدد کے راستے کو نہیں بلکہ امن اور گفت و شنید کے راستے کو اختیار کریں گے۔پریس کانفرنس کے شرکا نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں دس دن کا وقت دیا گیا ہے، اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دیگر قائدین کے ہمراہ 20 نومبر کو ایک بڑا احتجاجی جلسہ کیا جائے گا۔ علمائے کرام نے کہا کہ یہ کوئی حکومتی ایجنڈا نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد مساجد و مدارس کی خودمختاری کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ائمہ کو حقیر سمجھ کر تنخواہ دینا ان کی توہین کے مترادف ہے۔پریس کانفرنس میں شریک رہنماں نے کہا کہ ہمارا مقصد حکومت کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ دینی اداروں اور ائمہ کی عزت و وقار کا تحفظ ہے۔ اگر ائمہ یا مدارس کو امداد کے نام پر دبا میں لانے یا ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تو جمعیتِ علما اسلام پورے صوبے میں عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرے گی اور بوقتِ ضرورت قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی قیادت میں تحریک چلائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں