لاہور (بیورو چیف) سابق وزیراعظم و پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ تمام آئینی اداروں کو اپنی حدود میں ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے پیپلز پارٹی کا آئینی عدالت کا مطالبہ تھا وہ ستائیسویں ترامیم میں بن گئی اب عام لوگوں کو انصاف کی جلد فراہمی ہوگی جبکہ صدر مملکت جب بھی پوسٹ سے اتریں گے ، استثنیٰ ختم ہو جائے گا،صدر کو استثنیٰ ایگزیکٹو پوسٹ تک ہے ۔وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میاں منظور احمد مانیکا کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔اس موقع پرجنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی ،قمر زمان کائرہ،چودھری منظور احمد،فیصل میر،چودھری اختر،قاسم ضیااورنگزیب برکی،رانا جمیل منج،حاجی عزیز الرحمن چن،میاں ندیم مانیکا،چودھری ریاض،جہانگیر وٹو،ڈاکٹر خیام حفیظ،جہانزیب بدر،عامر نصیر بٹ،عارف ظفر،فرخ مرغوب،میاں واصل منظور مانیکا،رانا خالد،فہیم ٹھاکر،راو بابر جمیل،ذیشان شامی،نسیم صابر،مدثر شاکر بھی موجود تھے۔قبل ازیں انہوں نے پارٹی رہنماوں کیساتھ پیپلز پارٹی رہنما ذوالفقار علی بدر سے انکے چچا زاد بھائی،ڈاکٹر عائشہ شوکت سے انکے ماموں اور نرگس خان سے انکی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کرنے انکے گھروں میں گئے۔سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ میاں منظور مانیکا پیپلز پارٹی کا اثاثہ تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ کو بنیاد بنا کر کمنٹ کرنا مناسب نہیں، تمام آئینی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کے پی کے کو بانی پی ٹی سے ملاقات کروانی چاہیے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مہنگائی تو کوئی بھی حکومت نہیں چاہتی تاہم یہ بات سچ پچھلے چند سال میں سخت ترین فاصلے وقت کی ضرورت تھے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا (ن) لیگ سے معاہدہ تھا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔




