رینالہ خورد میں نوجوان لڑکی پر چھریوں کے وار

لاہور (بیورو چیف)ضلع اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں تھانہ صدر کی حدود میں خواتین پر تشدد اور نوجوان لڑکی پر جان لیوا حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ملزمان مبینہ طور پر زبردستی گھر میں گھس آئے، خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک نوجوان لڑکی کو زبردستی گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کی۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مزاحمت پر لڑکی پر چھریوں کے وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی، جبکہ گھر میں موجود دیگر خواتین کو بھی تشدد اور سنگین دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعہ کے بعد متاثرہ خاندان کی مدعیت میں تھانہ صدر رینالہ خورد میں ملزمان جاوید عرف جیدا، پرویز، بلال اور صابر کے خلاف سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کی۔ حنا پرویز بٹ کے نوٹس اور ہدایات کے بعد ڈی پی او اوکاڑہ کی نگرانی میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ حنا پرویز بٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تفتیش مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر اور بلا امتیاز ہو، چھری کے حملے، زبردستی اغوا کی کوشش، گھریلو حدود کی پامالی اور خواتین پر تشدد کے تمام پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے مضبوط چالان تیار کیا جائے، تاکہ عدالت سے ملزمان کو قرارِ واقعی سزا دلوانے میں کوئی قانونی کمی نہ رہ جائے۔حنا پرویز بٹ نے اپنے سخت مذمتی بیان میں کہا کہ کسی کے گھر میں گھس کر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانا، نوجوان لڑکی کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کرنا اور اس پر چھریوں سے حملہ کرنا درندگی اور کھلی بغاوت کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ”خواتین پر ہاتھ اٹھانا، اُنہیں ڈرانا، اُن کے گھر کی چار دیواری کو توڑنا اور لڑکیوں پر جان لیوا حملے کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔ ایسے درندہ صفت عناصر کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی کسی بیٹی، ماں یا بہن کو کمزور نہ سمجھے۔”حنا پرویز بٹ نے واضح کیا کہ خواتین کے خلاف تشدد، اغوا کی کوشش اور خاندانی تنازعات کی آڑ میں مسلح حملوں کے خلاف حکومتِ پنجاب زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے کہا کہ یہ کیس براہِ راست پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے مینڈیٹ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اتھارٹی خود اس مقدمہ کی پیروی میں ضلعی پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متاثرہ لڑکی کو فوری طور پر مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں، اس کے طبی اور قانونی بیانات کو محفوظ کیا جائے، اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے ذریعے متاثرہ خاندان کو قانونی، نفسیاتی اور مشاورت کی شکل میں ہر ممکن مدد دی جائے۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ضلعی ویمن پروٹیکشن آفیسر اور متعلقہ ادارے متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور مقدمہ کی پیش رفت کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی۔حنا پرویز بٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن”خواتین کے لیے محفوظ پنجاب”کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایسے ہر واقعہ کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، جہاں کسی بیٹی کو اٹھانے، زخمی کرنے، خوف زدہ کرنے یا گھر کی چار دیواری پامال کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی محلے، گلی یا گاو?ں میں خواتین پر تشدد، زبردستی گھروں میں گھسنے، لڑکیوں کو اٹھانے یا چھریوں، ڈنڈوں اور اسلحہ کے زور پر دھمکانے کا کوئی واقعہ نظر آئے تو فوراً پولیس، پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں، تاکہ بروقت کارروائی کے ذریعے ایسے عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے اور پنجاب کی بیٹیوں کے لیے ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں