پورا سال رمضان ہوگا

ہر سال دور ترجمہ قرآن کی سعادت نصیب ہوتی ہے، تراویح کے بعد ہر رات ایک پارہ قرآنِ کریم کا ترجمہ پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔میں نے بارہا یہ محسوس کیا ہے کہ جب بندہ قرآن کے ساتھ بیٹھتا ہے، تو وہ قرآن نہیں پڑھتا قرآن اس کو پڑھتا ہے۔وہ دل کے اندر اترتا ہے، سوچ کو بدلتا ہے، اور کبھی کبھی ایسے دروازے کھول دیتا ہے جو پہلے کبھی کھلے ہی نہیں تھے۔ہر سال اس مبارک مجلس میں اللہ تعالی اپنے کلام سے کچھ نہ کچھ عطا فرماتے ہیں۔اس سال بھی ترجم قرآن کے دوران ایک نکتہ دل میں اترا ایک ایسا نکتہ جس نے قرآن کے اسلوب کو ایک نئی روشنی میں دکھایا۔ ایک لمحہ قرآنِ کریم کا ایک خاص انداز ہے جب وہ جنت کے مناظر بیان کرتا ہے،جہنم کی ہولناکی دکھاتا ہے، قیامت کے دن کو سامنے لے آتا ہے،اور اللہ جل جلالہ کی قدرت و جلال کو نمایاں کرتا ہے تو انسان کے اندر کچھ ٹوٹتا ہے۔وہ رک جاتا ہے سوچتا ہے اور دل سے ایک آواز آتی ہے:میں کیا ہوں؟میں کس قابل ہوں؟میں وہاں کیسے کھڑا ہوں گا؟یہ لمحہ بہت قیمتی ہوتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے۔ لیکن یہیں بات ختم نہیں ہوتی یہاں قرآن کا حسن اپنے عروج پر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالی بندے کو اس حال میں تنہا نہیں چھوڑتے۔نہ اسے بھٹکنے دیتے ہیں، نہ اسے بے سہارا چھوڑتے ہیں۔بلکہ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کے دل میں آخرت کا یقین جاگ جاتا ہے،جہاں وہ اپنی کمزوری کو مان لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے راستہ دکھاتے ہیں۔اگر تم اس احساس کو زندہ رکھنا چاہتے ہواگر تم واقعی کامیابی چاہتے ہوتو میرے نازل کردہ قرآن کے ساتھ جڑ جا۔اسی لیے قرآن میں بار بار یہ انداز نظر آتا ہے کہایسے مواقع کے بعد قرآن، کتاب، ذکر یا ہدایت کا تذکرہ ضرور آتا ہے۔ خود قرآن سے سن لیجیے یہ کوئی ایک مقام نہیں، بلکہ بار بار آنے والا انداز ہے:جب سورة ق میں قیامت اور حساب کا نقشہ کھینچا گیا تو آخر میں فرمایا:فذِر بِالقرآنِ من یخاف وعِیدِ (ق: 45)اور سور السرا میں اعلان ہوا:ِن ہذا القرآن یہدِی لِلتِی ہِی قوم (السرا: 9)سور الزمر میں دل دہلا دینے والے مناظر کے بعد فرمایا:اللہ نزل حسن الحدِیثِ ِتابا (الزمر: 23)سور الفرقان میں ارشاد ہوا:تبار الذِی نزل الفرقان (الفرقان: 1)سور محمد ۖ میں جھنجھوڑ کر پوچھا گیا:فلا یتدبرون القرآن (محمد: 24) اور رمضان کے بارے میں اعلان ہوا:شہر رمضان الذِی نزِل فِیہِ القرآن ہد لِلناسِ (البقر: 185)اسی طرح فرمایا گیا:وہذا ِتاب نزلناہ مبار فاتبِعوہ (النعام: 155)قد جاتم موعِظ وشِفا (یونس: 57)ِ تاب نزلناہ لِیدبروا آیاتِہِ (ص: 29)ہذا بلاغ لِلناسِ (ابراہیم: 52)ِنا نا منذِرِین (الدخان: 3)وذلِ وحینا ِلی قرآنا عربِیا (الشوری: 7) ایک حقیقت اگر ان تمام آیات کو ایک نظر سے دیکھا جائے تو ایک بات بالکل واضح ہو جاتی ہے:قرآن پہلے انسان کو آخرت دکھاتا ہے پھر اسے تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ راستہ بھی خود ہی بتاتا ہے۔پہلے جھنجھوڑتا ہے پھر سنبھالتا ہے۔ اب سوال یہ ہے ہم نے رمضان میں قرآن کے ساتھ تعلق بنایا،تراویح میں کھڑے ہو کر سنا،ترجمہ سمجھا، دل نرم ہوا کیا یہ تعلق رمضان کے ساتھ ختم ہو جائے؟ہرگز نہیں! اصل دعوت اگر ہم واقعی آخرت کو سچا مانتے ہیں تو:قرآن کو روزانہ کا حصہ بنائیںترجمہ کے ساتھ جڑیںتدبر کو اپنی عادت بنائیںاور زندگی کے فیصلے قرآن سے لینا شروع کریں آخری بات دل کیلئے موت ختم ہونا نہیں منتقل ہونا ہے قبر اندھیرا نہیں اگلے سفر کا دروازہ ہے قیامت ایک خیال نہیں آنیوالی حقیقت ہے جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو راستہ خود واضح ہو جاتا ہے:قرآن کے ساتھ جڑ جا۔یہی تمہیں دنیا میں سنوارے گااور یہی تمہیں آخرت میں بچائے گا۔اور سارا سال رمضان المبارک جیسا بن جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں