فیصل آباد کی بے ہنگم توسیع …ماسٹر پلان سے انحراف کی بھاری قیمت

فیصل آباد، جسے کبھی اپنی بہترین منصوبہ بندی اور صنعتی وقار کی وجہ سے ‘پاکستان کا مانچسٹر’ کہا جاتا تھا، آج اپنی ہی حدود میں سمٹتا ہوا ایک انتظامی بحران کا منظر پیش کر رہا ہے۔ شہر کی تیزی سے پھیلتی ہوئی حدود کسی ترقی کی علامت نہیں، بلکہ ایک ایسے بگاڑ کی نشاندہی کر رہی ہیں جس کی جڑیں ناقص شہری منصوبہ بندی اور ماسٹر پلان سے دانستہ انحراف میں پیوست ہیں۔ اس بے ہنگم پھیلائو نے نہ صرف شہر کے جغرافیائی حسن کو گہنا دیا ہے بلکہ اس کی معاشی، سماجی اور ماحولیاتی ساخت کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔
(رہائشی و صنعتی حدود کا خاتمہ)
شہر کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ رہائشی، صنعتی اور کمرشل زونز کے درمیان موجود حدِ فاصل اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ گنجان آباد رہائشی گلیوں میں بڑی فیکٹریوں کا قیام اور اہم شاہراہوں پر بغیر کسی منصوبہ بندی کے تجارتی مراکز کی بھرمار نے شہری زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ زمین کے استعمال (Land Use) کی اس بے ترتیبی نے پرسکون رہائشی علاقوں کو شور زدہ تجارتی مراکز میں بدل دیا ہے۔
انتظامی غفلت اور غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز ماہرین عمرانیات کے مطابق کسی بھی جدید شہر کی پائیدار ترقی کا دارومدار اس کے ”ماسٹر پلان” پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (FDA) اور متعلقہ بلدیاتی ادارے اس پلان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اسی انتظامی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لینڈ مافیا نے سینکڑوں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کھڑی کر دیں، جہاں نہ تو سیوریج کا مناسب نظام ہے اور نہ ہی مستقبل کی ٹریفک گنجائش کا کوئی تصور۔ (ماحولیاتی سنگینی اور عوامی صحت)اس صورتحا ل کا سب سے بھیانک پہلو ماحولیاتی آلودگی ہے۔ رہائشی علاقوں کے بیچوں بیچ کام کرنے والے صنعتی یونٹس زہریلا دھواں اور کیمیکل ملا فضلہ خارج کر رہے ہیں، جو زیرِ زمین پانی اور فضا کو مسلسل زہر آلود کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارتی مراکز میں پارکنگ کی سہولیات نہ ہونے کے باعث سڑکیں سکڑ چکی ہیں، جس سے ٹریفک کا اژدہام اور شور کی آلودگی شہریوں کے اعصاب پر سوار رہتی ہے۔سماجی اثرات اور بنیادی سہولیات کا فقدان غیر متوازن ترقی نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ اسکول، ہسپتال اور پارکس جیسے بنیادی ادارے اب رسائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر فطری اضافہ اور رہائشی سکون کی پامالی نے متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر بنانا یا پرامن زندگی گزارنا ایک خواب بنا دیا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو فیصل آباد جلد ہی ایک ایسے ‘کنکریٹ کے جنگل’ میں تبدیل ہو جائے گا جہاں بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی ناممکن ہوگی۔(مسائل حل کرنے کیلئے اقدام )اجتماعی وژن کی ضرورت ہے۔ ماہرینِ اس بات پر متفق ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ ماسٹر پلان کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں۔ 1.صنعتی اور رہائشی علاقوں کی حدود کا ازسرِ نو تعین اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے۔ 2.نئی ہائوسنگ سوسائٹیز کے لیے این او سی (NOC) کے عمل کو شفاف اور سخت بنانا۔ 3.مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پارکنگ پلازوں اور کشادہ سڑکوں کی تعمیر۔فیصل آباد کی بے ہنگم توسیع صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا آئینہ بھی ہے۔ جب تک شہری، انتظامیہ اور حکومت ایک مشترکہ وژن کے تحت شہر کے مستقبل کا تحفظ نہیں کریں گے، تب تک یہ بے ترتیب سفر شہر کو تاریکی کی طرف دھکیلتا رہے گا۔ یہ وقت فیصل آباد کو ایک بار پھر منظم، صاف اور قابلِ رہائش بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں