پروفیسر غلام حسین ساجد…علم، ادب اور شعور کا استعارہ

ملاقات بھی اپنے اندر ایک جہان معنی رکھتی ہے۔بعض اوقات بظاہر یہ محض ایک رسمی نشست محسوس ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ بن بادل برسات کی مانند روح وفکر کو سیراب کرجاتی ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد اشرف کے ساتھ راہ ورسم اور ان کی وساطت سے پروفیسر غلام حسین ساجد سے تعارف اور پہلی تفصیلی ملاقات ۔ بعد ازاں ملاقاتیں ایک سے زیادہ ہو چکی ہیں اور ہر دفعہ ان کی علمی استعداد، شعری ذوق، فن کی پختگی، حس طنز ومزاح، لطیف جذبات واحساسات اور تحقیق و جستجو، اتنے سارے اوصاف سامنے آئے۔ اس کے علاوہ وہ تو راوی کی “کدھی” کے لوگ ہیں۔ یہ ان میں اور مجھ میں قدر مشترک ہے ویسے تو مولانا طارق جمیل اور ہمارے ممدوح میں بھی کئی اقدار مشترک ہیں دونوں کا تعلق میاں چنوں کے علاقے سے ہے دونوں کی زبان کا ایک ہی لہجہ ہے۔دونوں ابلاغ کا کام کررہے ہیں البتہ ان میں سے ایک مذہب کا نام استعمال کر کے مذہب کا کام کررہا ہے اور دوسرا مذہب کا نام لئے بغیر مذہب کا کام کررہا ہے اور دونوں پر ایک حقیقت آشکار ہے کہ خیر کا کام کرنے والے سرخرو ہوتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی تھے جو کہ ان سے تیس سال بڑے تھے اور وہ میٹرک پاس کرنے کے بعد ایک بزرگ سیاستدان کی اعانت سے نائب تحصیلدار بن گئے لیکن بہت جلد ایک انگریز ڈپٹی کمشنر اور ان کی ان بن ہوگئی اور پھر انہوں نے اپنی نوکری کی قربانی دے دی۔ راوی کے لوگ اور انگریز۔ شاید دونوں اپنے آپ کو کچھ نہ کچھ سمجھتے تھے اسی لئے راوی کے کنارے ایک معرکہ حق ہوا اور رائے احمد خان کھرل شہید اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر برکلے جہنم رسید ہوا اور مسلمان حریت پسند”زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی”خیر بات تو بھائی مذکور کی ہورہی تھی اور انہوں نے تین نوکریاں کیں اور تینوں کو اس لئے چھوڑ دیا کیونکہ ان کا ان کے کسی بھی افسر سے نباہ نہ ہو سکا اور آخر پر انہوں نے پٹوار کا امتحان پاس کیا اور پھر پٹواری کی ملازمت۔ واقعی انسان واقعات کے تسلسل سے سیکھتا ہے اور ویسے بھی پٹواری کی نوکری تو افسانوی رنگ اختیار کرچکی ہے اور اب ہم پٹوار کلچر سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ ہم سب بحیثیت قوم پٹواری کے پیچھے پڑ گئے ہیں اب وہ آگے آگے ہے اور ہم پیچھے پیچھے ہیں یوں ہم سب دوڑ رہے ہیں کچھ پٹواری کی پشت پناہی میں دوڑ رہے ہیں کچھ اس کو روکنا چاہتے ہیں اور کچھ اس کو واقعی صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں شاید ہم یہ بھول گئے ہیں کہ انگریزوں کے لگائے ہوئے”بوٹے”اتنے کمزور نہیں ہوتے اور دانائی کا تقاضا ہے کہ ایسے بوٹوں کی نوک پلک سنوار کر نگرانی بہتر کرلی جائے بصورت دیگر دوڑ جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے خود میٹرک پاس کیا تو ان کے 715نمبر تھے، معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ علم کی اہمیت کے بارے میں بہت دیر تک غیر سنجیدہ رہے اور اس طرح ہم نے آگے بڑھنے میں دیر کردی اور سائنس اور ٹیکنالوجی پر غیروں کا قبضہ ہوگیا اور آج ہم کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کے لئے ٹکریں مار رہے ہیں۔ نور نہنگ کا ڈھولا اور دوہڑہ بھی زیر بحث آیا۔ پنجابی زبان کے لوک گیت جن کے ایک ایک اکھر میں پنجاب کے سارے رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کا سفر زیست۔ کامیابی وکامرانی کی عمدہ مثال اور آج کے دور میں علم وادب کا معتبر اور مستند حوالہ پروفیسر غلام حسین ساجد۔ اردو اور پنجابی زبان وادب میں بے شمار تصانیف اور ان تصانیف پر ان گنت مقالے اور ادبی حلقوں میں قابل ذکر نام۔حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سالانہ اجلاس (2025-26)میں ان کا خطبہ صدارت اور انکی نقطہ آفرینی اور علمی دھاک۔ ان کی ایک نئی تصنیف بعنوان”کن دے گن” حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔ اپنی نوعیت کا نویکلا اور وکھرا عنوان۔ صوفیا نے کن فیکون کا لفظ بکثرت استعمال کیا ہے راقم الحروف نے بھی اپنی ایک نظم میں کن دی گل کے الفاظ استعمال کئے ہیں تاہم ان کے ہاں کن دے گن لفظ استعمال کرکے پنجابی زبان وادب میں کن کا ایک نیا پہلو نکالا گیا ہے۔ انشا اللہ کتاب کے مطالعہ سے گن کی حقیقت مجھ پر آشکار ہوگی اور میں کن کی ایک نئی جہت سے مستفید ہونگا۔ ان کا ایک مقالہ بعنوان ”قطب علی شاہ دی لڑی دے شاعر”جس میں آپ کو برصغیر پاک وہند میں صوفیا کے پورے قد کاٹھ اور ان کے ارتقائی منازل کی پوری جھلک نظر آتی ہے۔ مجھے تو ان سے معلوم ہوا کہ منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قر یشی تھا اور وہ شریف کنجاہی کے قریبی عزیز تھے۔ منو بھائی اچھا نام ہے کیونکہ بھائی میں اپنائیت کا پہلو بدرجہ اتم پایا جاتا ہے لیکن بدقسمتی اس لفظ کے تقدس کی وجہ سے آپ کے سب رشتہ دار آپ کو اس نام سے نہیں پکار سکتے ہیں۔ اس پہلو کا پہلی دفعہ دلدار پرویز بھٹی مرحوم کو احساس ہوا اور انہوں نے منو بھائی سے سوال کیا کہ آپ کی زوجہ محترمہ آپ کو کس نام سے پکارتی ہیں۔ ادیب اور شاعر بھی کمال کے حاضر دماغ لوگ ہوتے ہیں انہوں نے برجستہ جواب دیا دلدار سے۔ “واہ واہ” کہنے کو جی چاہتا ہے۔ تضمین کے نتیجے میں ہونے والی شاعری کے خدوخال کھل کھلا کر سامنے آئے۔ کلاسیکی شاعری، روایت اور جدت کا آپس کا ربط قائم کرکے شاعری کرنا۔ یہ ہے شعروسخن کا فن اور اس فن میں غلام حسین ساجد کا راسخ ہونا۔ ان کے ہاں تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح۔ ویسے بھی دل آزاری ادب کا موضوع نہیں ہے۔ لطیف جذبات کے اظہار کو علم وادب کہتے ہیں۔ طنزومزاح میں بھی پروفیسر صاحب کو پورا ملکہ حاصل ہے لیکن وہ مزاح کے لئے اپنی بیوی کو موضوع سخن نہیں بناتے ہیں جیسا کہ آج کی مزاحیہ شاعری میں مروجہ رجحان پایا جاتا ہے۔ تاہم ان کو اس بات کی پریشانی ضرور ہے کہ ان کی زوجہ محترمہ ان کے علمی وادبی قدکاٹھ کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتی ہیں حالانکہ انہوں نے امریکہ کے درودیوار پر آویزاں ایسے بینرز بھی ان کو دکھائے جن پر جلی حروف میں تحریر تھا “ویلکم غلام حسین ساجد ٹو امریکہ”۔ افسوس وہ “میں نہ مانوں” کی پالیسی پر پوری طرح گامزن ہیں۔ کاش ہمارا ملک بھی ایسی ہی شدت سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوجائے۔ ادب برائے ادب کے وہ بالکل قائل نہیں ہیں اور ان کے ہاں بھی مقصدیت پیش نظر ہے۔ وہ علامہ محمد اقبال کی شاعری کے مضامین کی تفہیم سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان کی خواہش ہے کاش ہم سب علامہ صاحب کی شاعری پڑھ لیں اوراس پیغام کی حقیقت کو شعوری طور پر جان جائیں تو پھر ہر دوسرے دن مختلف موضوعات کے بارے میں شعوری آگاہی کے لئے سیمینارز اور واک ہائے کے انعقاد پر سرکار کو اتنی بڑی کثیر رقم خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ پروفیسر شاہد اشرف اور شفقت حسین شفقت۔ انتہائی سنجیدہ سامعین ۔ دلچسپ نشست اور زبردست تعلیم وتربیت۔ اخلاص محبت اور پیار کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور اس بات کو ہی ہم سب نے مل کر آگے بڑھانا ہے اور ساری دنیا کو بھی بتانا ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہوش ٹھکانے آجائیں اور ایران امریکہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ سرود رفتہ دہرانے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں